خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 40

خطبات طاہر جلداول 40 40 خطبہ جمعہ ۹/ جولائی ۱۹۸۲ء خزانے خالی ہو جایا کرتے ہیں۔روپے کی کوئی قدر اور قیمت نہیں رہتی۔جب حکومتوں کا نظام کمزور پڑتا ہے اور Coercion ( کوئرشن ) کم ہو جاتی ہے یعنی جبر کی طنابیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں تو ٹیکس کی چوریاں شروع ہو جاتی ہیں۔دینے والے اول تو ٹیکس دیتے نہیں اور جو دیتے ہیں۔وہ لینے والے کھا کر بھاگ جاتے ہیں۔پس دنیا کے روپے کئی قسم کے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں اور طرح طرح کی خزائیں ان کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی ہیں اور ان کا خون چوس جاتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر کوئی خزاں نہیں آیا کرتی۔جماعت احمدیہ پر مختلف حالات گزرے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ ۷۴ ء میں جب ساری جماعت کے اموال لٹ رہے تھے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا کے خزانے بھرے جار ہے تھے اور پہلے سے بڑھ کر بھرے جا رہے تھے۔دوستوں کی طرف سے یہ درخواستیں نہیں آ رہی تھیں کہ ہم لٹ گئے۔ہمارے تو گھر جل گئے۔ہمارے چندے معاف کئے جائیں۔لوگ روتے ہوئے اور التجائیں کرتے ہوئے یہ درخواستیں دے رہے تھے کہ اے ہمارے آقا! دعا کریں کہ اس حال میں بھی خدا ہمیں اپنا وعدہ پورا کرنے کی توفیق بخشے۔ہم اپنا کوئی وعدہ واپس نہیں لینا چاہتے۔ہم پوری دیانت داری اور پورے خلوص سے یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ہم نے جو وعدے کئے تھے وہ ہم ضرور ادا کریں گے۔صرف اتنی التجا ہے کہ آپ بھی دعاؤں کے ذریعہ ہماری مدد کر یں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حوصلہ دے۔ثبات قدم عطا فرمائے اور توفیق بخشے کہ ہم ان وعدوں کو پورا کر دیں۔اس قسم کے بعض خطوط وقف جدید میں مجھے آ جاتے تھے۔سیالکوٹ کی ایک جماعت تھی جو پوری اجڑ چکی تھی۔وہاں موجود ہی نہیں رہی تھی ( لیکن ۷۴ء کے زمانہ کی میں بات نہیں کر رہا۔یہ دوسری مثال دے رہا ہوں ۱۹۷۱ء کی جنگ کے نتیجہ میں یہ حالات پیدا ہوئے تھے ) اس زمانہ میں ان کی عارضی ہجرت کے دوران پہلے ان کے پریذیڈنٹ کا خط آیا کہ دعا کریں۔چاہے ہمیں مزدوری کرنی پڑے۔محنت کرنی پڑے۔ہم یہ چندہ وقف جدید کا لکھایا ہوا ہے، وہ ضرور ادا کریں گے اور پھر سال ختم ہونے سے پہلے خوش خبری کا خط آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق بخشی ہے اور ہم نے اس چندے کی پائی پائی ادا کر دی ہے۔پس یہ وہ جماعت ہے جس پر خدا کے فضل ہیں اور خدا کے فضلوں پر خزاں نہیں آیا کرتی۔