خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد اول 42 خطبہ جمعہ ۹ / جولائی ۱۹۸۲ء حضرت خلیفہ امسح الثالث دو گھوڑوں کی مثال دیا کرتے تھے۔ویسی صورت حال پیدا ہو جائے۔کہتے ہیں ایک عرب کو ایک گھوڑا بڑا پیارا تھا کیونکہ سارے عرب میں اس جیسا تیز رفتار گھوڑا کوئی نہیں تھا۔ایک دفعہ چور آیا اور گھوڑے کو کھول کر وہ بہت دور نکل گیا۔جب مالک کی آنکھ کھلی تو وہ گھوڑا آگے جا چکا تھا اس نے اپنا نمبر ۲ گھوڑا پکڑا اور نمبر ۲ گھوڑے پر سوار ہو کر اس کا پیچھا شروع کیا۔کیونکہ وہ ماہر تھا اس کے مزاج سے واقف تھا اور چور اول نمبر گھوڑے کے مزاج سے نا آشنا تھا۔اس لئے آہستہ آہستہ یہ اس کے قریب تر ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچ گیا۔لیکن اچانک اس کو وہاں یہ خیال آیا کہ اگر آج میں نے اس کو پکڑ لیا تو میرے گھوڑے کا یہ نام جو دنیا میں رہنا تھا کہ کبھی کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں بڑھ سکا یہ نام ختم ہو جائے گا۔تو اس نے چور سے کہا، جا میں اور کسی وجہ سے نہیں صرف اپنے گھوڑے کے نام کی خاطر تجھے چھوڑتا ہوں۔اور گھوڑے کو اس نے جانے دیا۔پس میرے دل کی یہ کیفیت ہے کہ میں اللہ سے عرض کروں کہ تو ہماری بھوک بھی بڑھاتا چلا جا اور اپنی عطا بھی بڑھاتا چلا جا۔لیکن اگر ہماری بھوک تیری عطا کے قریب پہنچ جائے تو پھر تو اپنی رحمت کے صدقے اس عطا کے نام پر جسے کبھی دنیا میں کسی چیز نے شکست نہیں دی تو اپنی عطا کو اور آگے بڑھا دینا تا کہ یہ عطا ہمیشہ بے مثل رہے اور بے نظیر رہے اور کوئی بھوک اس کو پکڑ نہ سکے۔غرض اللہ تعالیٰ سے ہماری التجا یہی ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر یہ فضل جاری رکھے اور ساتھ یہ بھی کہ بہترین خرچ کی توفیق بخشے۔امانت کے ساتھ ، دیانت کے ساتھ بہترین سوچ کی توفیق بخشے بہترین فکر کی تو فیق بخشے۔سارے کارکن خدا کی رضا کی خاطر کام کرنے والے ہوں۔دیانت اور امانت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔پیسے پیسے کے ساتھ دعاؤں کی اور التجاؤں کی برکتیں شامل ہوں اور یہ روپیہ اپنی ظاہری حیثیت سے کئی گنا زیادہ برکتیں اپنے ساتھ لے کر آئے جو دنیا کے حساب میں وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتیں۔بجٹ کی زائد وصولی پر خوشی کا تیسرا پہلووہ ہے جو دینے والوں کی حالت سے تعلق رکھتا ہے۔حق حلال کی کمائی اس میں شامل ہے۔اہل ایمان مزدوروں کا پسینہ اس میں شامل ہے۔ایسی محنت اور پاکیزہ محنت اس روپیہ میں داخل ہو چکی ہے جو اپنی پاکیزگی کے لحاظ سے ساری دنیا میں بے مثل ہے۔