خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد اول 367 خطبه جمعه ۳۱ / دسمبر ۱۹۸۲ء گھروں کے لئے بہتر ہے۔ان کے گھروں کو جنت بنانے کے لئے یہ ضروری ہے۔بعض لوگ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اس بات کو نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی فیشن میں ہے۔حالانکہ فیشن میں کوئی زندگی نہیں۔اصل زندگی تو اس فیشن میں ہے جو دین کا فیشن ہے۔اس میں نہیں ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا کہ یہ زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔پس زندگی کا فیشن تو ہم آنحضرت مے سے سیکھیں گے نہ کہ کسی اور سے۔ایک چیز جو بعض دفعہ بچیوں کو بھی پریشان کرتی ہے اور بعض دفعہ مردوں کو بھی ، وہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پردہ اختیار کرنے کی وجہ سے سوسائٹی ہمیں ادنیٰ اور حقیر سمجھے گی۔وہ کہے گی یہ اگلے وقتوں کے لوگ ہیں۔چنانچہ جن احمدی عورتوں نے اس معاملے میں کمزوری دکھائی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ ان میں بے حیائی کا کوئی عنصر نہیں تھا۔دراصل نفسیاتی کمزوری نے اس میں ایک بہت ہولناک کردار ادا کیا ہے۔عورتیں بجھتی ہیں کہ اگر ہم اس دنیا میں جہاں سے پردے اٹھ رہے ہیں، اپنی سہیلیوں کے سامنے برقع پہن کر جائیں گی تو وہ کہیں گی کہ یہ اگلے وقتوں کی ہیں، پگلی ہیں، پاگل ہوگئی ہیں، یہ کوئی برقعوں کا زمانہ ہے اور یہی بات مردوں کو بھی تکلیف دیتی ہے۔حالانکہ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ عزت نفس اور دوسرے کا کسی کی عزت کرنا انسان کے اپنے کردار سے پیدا ہوتا ہے۔دنیا کی نظر میں لباس کی کوئی بھی حیثیت نہیں رہتی۔اگر کوئی آدمی صاحب کردار ہو تو اس کی عزت پیدا ہوتی ہے اور یہ عزت سب سے پہلے اپنے نفس میں پیدا ہونی چاہئے۔عظمت کردار اپنے نفس سے شروع ہوتی ہے۔اور جب اپنے نفس میں عزت پیدا ہو جائے تو پھر دوسروں کی دی ہوئی عزتیں بے معنی رہ جاتی ہیں۔بہر حال یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانی چاہتا ہوں۔آپ اپنے کردار کے اندر ایک عظمت پیدا کریں اور اس کا احساس پیدا کریں۔اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قانون از خود آپ کو آپ کے وجود کے اندر معزز بنا دے گا اور ایسے معززین کو پھر دنیا کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں رہتی۔وہ ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ہاں دنیا ان کی پرواہ کرتی ہے۔دنیا ان کو پہلے سے زیادہ عزت دیتی ہے۔گھٹیا نظر سے نہیں دیکھتی بلکہ رفعتوں کی نظر سے دیکھتی ہے۔یہ فطرت کا ایک ایسا اٹل قانون ہے کہ جس نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔وہ گواہ ہوگا کہ یہ قانون کبھی نہیں بدلتا۔