خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد اول 368 خطبه جمعه ۳۱ / دسمبر ۱۹۸۲ء پس جن بچیوں کے دل میں یہ خوف ہوں ان کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔آپ نے دنیا میں ایک عظیم انقلاب بر پا کرنا ہے۔آپ دنیا والوں سے مختلف ہیں۔اس لئے اپنی ذات میں خوش رہنے کی عادت ڈالیں چونکہ ہر کام آپ محض اللہ کر رہی ہونگی اس لئے اپنے متعلق محسوس کریں کہ خدا نے آپ کو عزت بخشی ہے۔اور آپ کو ایک اکرام بخشا ہے اور جود خت کرام ہو اسے دنیا کی عزتوں کی کیا ضرورت ہے۔اس کے باوجود بھی اگر آپ کو کوئی کہتا ہے کہ یہ اگلے وقتوں کی ہیں تو آپ کہیں کہ ہاں ہاں ، ہم اگلے وقتوں کی ہیں لیکن ان اگلے وقتوں کی جو حضرت محمد مصطفی عملے کے وقت تھے اور وہ اگلے وقت ایسے وقت تھے کہ جن کے سامنے ماضی بھی گزشتہ وقت تھا اور مستقبل بھی گزشتہ وقت ٹھہرتا ہے۔محمد مصطفی ملے کے وقت میں ہی تو وقت نے رفعت اختیار کی تھی اور زمانی قیود سے آزاد کر دیا گیا تھا۔وہی وقت تھا جو سب سے آگے تھا اور ہمیشہ آگے رہے گا اور انسان کا مستقبل کروڑہا کروڑ سال تک آگے چلتا چلا جائے گا۔تب بھی مستقبل کا انسان کبھی بھی حضرت محمد مصطفی اللہ سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔پس کہو اور جرات سے کہو کہ ہم اگلے وقتوں کی ہیں لیکن ان اگلے وقتوں کی جو محد مصطفی عے کے وقت تھے۔وہ کہتے ہیں پگلیاں ہو گئی ہو تو کہو کہ ہاں ہم پگلیاں ہیں ، دیوانیاں ہیں، لیکن محمد مصطفی ﷺ کی پگلیاں ہیں، اور دنیا کی فرزانگیوں سے ہماری کوئی بھی نسبت نہیں ہے۔نہ ہی ہم اس فرزانگی کو حرص کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ہماری دیوانگی جو آنحضور ﷺ کی محبت اور پیار کی دیوانگی ہے تمہاری فرزانگی سے کروڑوں گنا افضل اور زیادہ پیاری ہے۔اگر یہ احساس پوری طرح بیدار ہو تو یہ پر دے تکلیف کی بجائے لطف کا موجب بن جاتے ہیں اور معاشرے کو ایک عجیب جنت عطا ہوتی ہے۔پس قربانی تو دراصل ہے ہی کوئی نہیں۔یہ تو نعمت ہی نعمت ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت پہلے بھی عطا فرمائی تھی اور اب دوبارہ اس نعمت پر پوری شان کے ساتھ قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔پس دعا کرتے رہیں اور کوشش کرتے رہیں اور اپنے دائیں، بائیں آگے پیچھے نصیحت جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح سے اسلامی معاشرے کی تمام قدروں کو زندہ اور اعلیٰ اور ارفع طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی توفیق عطا فرما تا ر ہے۔