خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 366

خطبات طاہر جلد اول بہت احتیاط کرنی چاہئے۔366 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۸۲ء پھر ایسی خواتین ہیں جن کو باہر تو نکلنا پڑتا ہے لیکن وہ سنگھار پٹا ر کر کے نکلتی ہیں۔اب کام کا سنگھار پٹار سے کیا تعلق ہے۔سنگھار پٹار ان کے اس فعل کو جھٹلا دیتا ہے کہ اگر تم فلاں کام کے سلسلے میں نرم پردہ کرنے پر مجبور ہو تو کم از کم پر دے کے جو دوسرے تقاضے ہیں ان کو تو پورا کرو پورے سنگھار پٹار اور زمینوں کے ساتھ باہر نکلو اور پھر کہو کہ اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے کہ یہاں نسبتا نرم پردہ کرلیں ، یہ غلط بات ہے۔اسلام کے نام کو غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔الغرض اس قسم کی کچھ بالکل معمولی انتظامی سختیاں تھیں جو کی گئیں۔لیکن بہر حال میرا یہ فیصلہ تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو رفتہ رفتہ مزید سختی کی جائے گی اور اس سختی کے لئے سب سے پہلے میں نے اپنے آپ کو چنا۔میرا فیصلہ یہ تھا کہ پیشتر اس کے کہ کسی احمدی بچی کو نعوذ بالله من ذلك بے پردگی کی وجہ سے جماعت میں سے نکالنا پڑے، پہلے میں اپنے دل پر سختی کروں گا۔ان کے لئے راتوں کو اٹھ کر روؤں گا اپنے رب کے حضور عاجزانہ عرض کروں گا کہ اے اللہ! ان بچیوں کو بچا اور مجھے توفیق دے کہ میں پہلے تنبیہ کے تقاضے پورے کروں اس کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھاؤں۔نرمی ، محبت اور پیار سے ، جس طرح بھی بن پڑے میں ان کو سمجھاؤں اور واپس لانے کی کوشش کروں۔ان کی ذمہ داریاں ان کو بتاؤں۔جب یہ سارے تقاضے پورے ہو جائیں اور ہر قسم کی حجت تمام ہو جائے ، پھر تو ایسا فضل کر کہ بختی کا موقعہ پیش ہی نہ آئے۔یہ میرا فیصلہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور اس کے احسانات کو آدمی گن نہیں سکتا کہ اس چیز کا موقعہ ہی نہیں آنے دیا۔احمدی عورت نے حسن واحسان کا اتنا حیرت انگیز ردعمل دکھایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے سامنے سر جھک جاتا ہے۔اب میں مردوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ اگر ان کی بچیوں نے اسلام کی خاطر کچھ فیصلے اور عزم کئے ہیں تو ان کی راہ میں روک نہ ڈالیں۔اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ خدا کے سامنے دوہرے طور پر جوابدہ ہوں گے اور پھر وہ خودان نتائج کے ذمہ دار ہوں گے جو اس کے نتیجہ میں پیدا ہوں اور ظاہر ہوں۔اس مختصر سی تنبیہ پر ہی میں اکتفا کرتا ہوں اور سمجھنے والے سمجھیں گے کہ اگر کوئی احمدی بچی خدا کی خاطر ایک پاکیزہ اور عصمت والی زندگی اور حفاظت والی زندگی اور قناعت والی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے، تو کسی مرد کو ہرگز اس کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہئے۔یہ چیز خودان کے لئے اور ان کے