خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد اول 365 خطبه جمعه ۳۱ / دسمبر ۱۹۸۲ء انسان گھر میں آکر روز مرہ کی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ کام کے کپڑے اتار دیتا ہے اور دوسرے کپڑے پہن لیتا ہے۔پس اسلام میں بھی تو یہی طریق جاری رہنا چاہئے۔اگر کام کے تقاضے اور کام کے کپڑے آپ کو نسبتا نرم پردہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ آپ حیا کی چادر میں لپٹی ہوئی ہوں۔لیکن اس کے بعد روزمرہ کی زندگی میں یہی طریق اختیار کرنا درست نہیں ہے۔انگلستان اور امریکہ وغیرہ میں ہم نے دیکھا ہے مزدور بالکل اور کپڑے پہن کر کام پر جاتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو صاف ستھرے، کوٹ پتلون پہنے اور نکٹائی لگائے باہر نکلتے ہیں اور پہچانے نہیں جاتے کہ یہ وہی لوگ ہیں۔اس لئے آپ بھی اپنے معاشرے میں اسی قسم کی مناسب حال تبدیلیاں پیدا کیا کریں۔پھر آپ پر کوئی اعترض نہیں ہوسکتا۔اسی طرح بڑی عمر کی عورتیں ہیں۔اگر وہ اس عمر سے تجاوز کر گئی ہیں جہاں نا پاک لوگوں کی گندی نظریں ان پر پڑیں تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان پر کوئی حرف نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حرج ہے۔ایسی عورتیں اگر عام شریفانہ طریق پر چادر لے لیں جو ہمارے ہاں رائج ہے خواہ چہرہ نہ بھی ڈھکا ہوا ہو، تو یہ ان کے لئے جائز ہے۔کیونکہ جس چیز کی قرآن کریم اجازت دیتا ہے اس کو دنیا میں کون روک سکتا ہے۔اور قرآن کریم کے تقاضوں کو ہمیں بہر حال پورا کرنا چاہئے ،اگر سٹیج ٹکٹ کے معاملے میں ان پر بھی کسی قد رسختی ہوگئی ہو جس کی وجہ سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں حلم سے اور در گذر سے کام لینا چاہئے ویسے انتظام کی طرف سے عمداً ایسا نہیں ہوا۔لیکن آئندہ کے لئے جماعت کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ پردہ کے متعلق انفرادی طور پر ایسے فیصلوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ورنہ اس کا ناجائز استعمال ہوگا اور از خود لوگ بعض اجازتیں اپنے لئے لینی شروع کر دیں گے۔اگر اجازت کا غلط استعمال کریں گے تو پھر ہم اسی مصیبت میں مبتلا ہو جائیں گے جس مصیبت سے نکل کر آئے ہیں۔اس لئے اس قسم کی چیزیں جماعتی انتظام کے تحت ہونی چاہئیں۔جن خواتین کو جس قسم کے اسلامی پردے کی ضرورت ہے وہ اپنے انتظام کو بتائیں کہ میرے یہ حالات ہیں اور میرے متعلق قرآن کریم کا یہ حکم ہے اور میں اس کے مطابق عمل کر رہی ہوں پھر ا نتظام کو کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔لیکن بچیاں خصوصاً ایسے طبقے کی بچیاں جو ناز و نعمت میں پلی ہوتی ہیں اور جن کے لئے خطرات زیادہ ہیں ان کے بارہ میں نظامِ جماعت کو اجازت دیتے وقت