خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد اول 364 خطبه جمعه ۳۱ / دسمبر ۱۹۸۲ء پس یہ بھی حمد کے اظہار کی بات تھی اور شکر کے اظہار کی بات تھی۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہمارا شکر از خود حمد میں بدل جاتا ہے۔ایک ہی چیز کے دو نام معلوم ہوتے ہیں۔اس لئے میں نے سوچا کہ جماعت کو مطلع کروں کہ وہ خطرات جو منڈلا رہے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مل رہے ہیں۔اور ٹل جائیں گے اور ساری دنیا میں اسلامی پردے کی حفاظت کا سہرا احمدی بچیوں کے سر رہے گا انشاء اللہ۔ہم نے سب کھوئی ہوئی اقدار کو واپس حاصل کرنا ہے۔ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حضرت محمد مصطفی ﷺ کے معاشرے کی حفاظت نہیں کریں گے اور اسے دوبارہ دنیا میں قائم اور نافذ نہیں کر دیں گے۔پردے کے سلسلے میں کچھ معمولی شکایات بھی پیدا ہوئیں کہ بعض باتوں میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔لیکن جب ان بچیوں کو سمجھایا گیا تو وہ سب سمجھ گئیں۔بات یہ ہے کہ صرف سٹیج کے ٹکٹ سے روکا گیا تھا نا راضگی کے اظہار کے طور پر۔یہ تو کوئی نا انصافی نہیں ہے۔سٹیج تو کسی کا حق نہیں ہے۔نا انصافی تو حق تلفی کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔اس لئے اگر بعض پردہ دار بچیوں کو بھی سٹیج ٹکٹ سے محروم کر دیا گیا تو انہیں اس کا بُر انہیں منانا چاہئے تھا۔مثلاً بعض ایسی خواتین ہیں جو ایسے علاقوں سے آتی ہیں جہاں چادر کا پردہ بڑی تختی کے ساتھ رائج ہے اور اس پردے پر کوئی مسلمان اعتراض نہیں کرسکتا۔صرف اس لئے کہ چونکہ انہوں نے بُرقع نہیں پہنا اگر ان کو ٹکٹ سے محروم کر دیا گیا تو یہ ایک غلطی ہو سکتی ہے۔لیکن نا انصافی نہیں۔کیونکہ انصاف کا معاملہ تو حقوق میں شروع ہوتا ہے۔سٹیج ٹکٹ تو احسان کا معاملہ ہے۔ان کو صبر کے ساتھ برداشت کرنا چاہئے تھا کہ انتظام میں غلطی ہوگئی ہے، کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ معاف کرے، ہمارا بھی کون ساحق تھا، جماعت کا یہ احسان تھا کہ ہمیں ٹکٹ ملا کرتا تھا ، اب احسان نہیں ہے تو ہم اس پر بھی راضی رہیں گی۔اگر وہ یہ ردعمل دکھا تیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درجات اور بھی بڑھا دیتا۔اسی طرح بعض اور بھی اس قسم کی مثالیں ہیں۔لیڈی ڈاکٹر ہیں۔مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی خواتین ہیں۔اسلام کی تعلیم کے مطابق ان کے پردے کا معیار نسبتاً مختلف اور نرم ہے۔ہاں جب وہ ان کاموں سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کی عام زندگی میں لوٹتی ہیں تو ان کا فرض ہے کہ نسبتا زیادہ سختی سے پردہ اختیار کریں۔آپ نے دیکھا ہوگا کام کے کپڑے اور ہوتے ہیں اور جب