خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد اول عمل کی قوت تا ثیر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔343 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء اس لئے پورے خلوص اور تقویٰ کے ساتھ آپ اپنی قربانی سلسلہ کے لئے پیش کریں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مشکلات میں بھی ثابت قدم رکھے۔کیونکہ جلسے کے پروگرام جب آگے بڑھتے ہیں تو بعض دفعہ بچوں پر اور دوسرے کارکنوں پر اتنا زیادہ بوجھ پڑ جاتا ہے، کہ یوں لگتا ہے کہ انسانی طاقت میں ہی نہیں ہے کہ اس کو اٹھا سکے۔بعض دفعہ ایسا لگتا ہے کہ آدمی کا م کرتے کرتے بیہوش ہو کر گر پڑے گا ایسی کیفیتیں بھی آتی ہیں۔لیکن اگر انسان دعا کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ ان سب بوجھوں کو آسان فرما دیتا ہے۔اب میں ایک بات دکانداروں سے کہنی چاہتا ہوں۔یہاں کے دکانداروں کے لئے رزق کی کمائی کا یہ بڑا اچھا موقع ہے۔کئی بیچارے انتظار کرتے ہوں گے کہ سارے سال کے گھاٹے جلسہ سالانہ پر پورے ہو جائیں۔لیکن گھاٹے اس طرح پورے ہونے چاہئیں کہ کوئی بڑا گھاٹا نہ کھا جائیں۔یہ نہ ہو کہ دنیا کا گھاٹا پورا کرتے کرتے اپنی عاقبت کا گھاٹا مول لے لیں اور بددیانتی کا ایسا طریق اختیار کریں جس کے نتیجہ میں آپ کی عاقبت خراب ہو جائے۔لوگ بڑے اخلاص سے باہر سے آئیں گے۔بڑی بڑی امیدیں لیکر آئیں گے۔بعض تو اس لئے یہاں شاپنگ کرتے ہیں کہ ربوہ سے کچھ نہ کچھ لے کر جانا ہے۔یہ ظاہر بات ہے کہ جس جگہ سے محبت ہو اور جس کے متعلق انسان سمجھے کہ یہ نیکی کی آماجگاہ ہے وہاں کی ظاہری چیزوں سے بھی اس کو پیار ہو جاتا ہے۔لوگ مکہ اور مدینہ جاتے ہیں یا دوسرے مقامات مقدسہ مثلاً اجمیر شریف وغیرہ جاتے ہیں تو وہاں کی نشانیاں لے کر آتے ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ ان کو کسی ایسی چیز کی ضرورت ہے جو وہیں سے ملتی ہے بلکہ وہ صرف پیار کے ایک اظہار کے طور پر وہاں کی ایک نشانی لے کر آتے ہیں۔ہمارے پاس بھی کئی احمدی جب حج کر کے آتے ہیں تو کبھی مدینہ کی جائے نماز دے دیتے ہیں اور کبھی کوئی تیج دے دیتے ہیں۔یہ چیزیں وہ صرف محبت کے اظہار کے طور پر خریدتے ہیں کہ جس شہر میں حضرت محمد مصطفی عملے پھرا کرتے تھے وہاں سے ہم نے کوئی چیز خریدنی ہے خواہ وہ چیز جاپان میں بنی ہو۔لیکن چونکہ وہ اس مقدس مقام سے منسوب ہو جاتی ہے۔اس لئے برکت پا جاتی ہے۔اس میں ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔وہ پیار کا ایک اظہار بن جاتی ہے۔