خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 344

خطبات طاہر جلد اول 344 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء پس باہر سے آنیوالے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد، ضرورت سے بے نیاز ہوکر ، یہاں صرف اس لئے شاپنگ کرتی ہے کہ جس جگہ کو خدا نے آج تمام دنیا میں نور پھیلانے کا مرکز بنایا ہے وہاں کی چیزیں لے کر جائیں۔ان میں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے آنے والے احمدی بھی ہوتے ہیں۔ان کو ضرورت تو نہیں ہوتی کہ یہاں سے چیزیں خرید میں بلکہ ساری دنیا ان سے چیزیں خریدتی ہے اس لئے جب باہر کے مہمان یہاں آکر شا پنگ کرتے ہیں تو خالصتہ نیکی کی وجہ سے اور لہی محبت کے اظہار کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ایسے لوگوں سے جب بعض دکاندار زیادتی کرتے ہیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے ایمان کو کیسی ٹھو کر لگتی ہوگی وہ منہ مانگے دام دے دیتے ہیں۔وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک احمدی دکاندار جائز منافع سے زیادہ لے گا یا ہمارے بھول پن سے فائدہ اٹھا کر ہمیں کچھ زیادہ دام بتائے گا۔لیکن جب وہ دوسری جگہ جاتے ہیں اور وہاں نسبتا نیک دکاندار ملتا ہے تو اشک ٹھوک لگتی ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا! یہ قیمت ہے اس کی ؟ ہمیں تو فلاں جگہ یہ بتائی گئی تھی۔چنانچہ ایسے واقعات وہ پھر بتاتے بھی ہیں۔گزشتہ کئی سالوں سے مجھے تجربہ ہوا ہے کہ بعض باہر سے آنیوالوں مثلاً امریکنوں نے بتایا کہ ہمیں یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ ایک دکاندار کے پاس گئے اور ایک چیز کی قیمت پوچھی تو اس نے کہا پچاس روپے ، ہم نے اسی وقت دے دیئے۔لیکن جب دوسرے دکاندار کے پاس گئے تو اس نے کہا یہ تو اکیس روپے کی ہے۔کوئی نسبت ہونی چاہئے۔آپس میں کوئی موازنہ تو ہو۔اکیس کے بائیس ہو جائیں یا تئیس ہو جائیں یا انہیں ہوں۔یہ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے۔لیکن پچاس کے اکیس ہو گئے ہوں یا اکیس کے پچاس ہو جائیں۔یہ حساب سمجھ میں نہیں آ سکتا۔پس لازماً کسی نے بد دیانتی کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ ان کے ایمان ان ٹھوکروں سے بالا ہیں لیکن ایک نقصان لازماً پہنچتا ہے۔ان کی توقعات میں ایک نئی تبدیلی پیدا ہوتی ہے، پھر وہ سوچتے ہیں کہ جتنی اعلیٰ توقعات ہم نے رکھی ہوئی ہیں۔یہ بہر حال وہ تو قعات نہیں ہیں۔اور اگر وہ ایمان سے منحرف نہ بھی ہوں۔تب بھی ان چیزوں کو دیکھ کر ان کے اخلاص کے اندر کمی ضرور آجاتی ہے اور اخلاص بڑھنے کے مواقع تو بہر حال ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔پس بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی رازق ہے اس پر تو کل کریں جتنا خدا دیتا