خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 342
خطبات طاہر جلد اول 342 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء حقیقت یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ کام کرنا اور خدمت کرنا بھی بالواسطہ تبلیغ بن جاتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہی ایک دفعہ ایسا وقت آیا کہ بارش ہورہی تھی اور خطرہ تھا کہ صبح مہمانوں کو ہم روٹی مہیا نہیں کرسکیں گے۔ادھر نان بائی تنور چھوڑ کر بھاگنے لگے۔اس زمانے میں تو چھتیں بھی مہیا نہیں ہوا کرتی تھیں۔بہت برا حال ہوتا تھا۔تنور کچے اور پھر دیگر وسائل کی بہت کمی ہوتی تھی۔پیڑے والیاں تو پہلے ہی بھاگ گئی تھیں۔اُس وقت ہمارے جتنے اطفال بھی روٹی جمع کرنے پر مقرر تھے اور دوسرے کارکنان ، ان سب کو میں نے اکٹھا کیا۔علاوہ ازیں باہر سے بھی جتنے کارکن مل سکتے تھے وہ بلائے۔اس کے بعد ہم نے یوں کیا کہ پراتیں اور کنالیاں اور جو بھی مہیا ہوا ان کو لے کر نان بائیوں کے سروں پر کھڑے ہو گئے تا کہ بارش ان کو تکلیف نہ دے۔اور بچوں نے جیسا تیسا بھی انکو پیڑا بنانا آتا تھا ، پیڑے بنائے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہماری ساری رات اسی طرح گزری۔صبح نماز کے بعد مجھے ایک مولوی صاحب نظر آئے جو سندھ سے تعلق رکھتے تھے اور غالبا مجھے لاڑکانہ میں ملے تھے۔بڑے شدید مخالف ہوتے تھے اور جماعت اسلامی کے پیش رو لوگوں میں سے تھے۔وہ دوڑ کر مجھ سے لپٹ گئے ان کے اوپر رقت طاری ہو گئی۔میں نے کہا مولوی صاحب ! آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا میں ابھی نماز کے بعد بیعت کر کے آرہا ہوں اور اس خوشی میں گلے لگ کر مل رہا ہوں۔میں نے کہا آپ کو بیعت کرنے کا خیال کس طرح پیدا ہوا؟ کہنے لگے میں رات کو جبکہ بارش ہو رہی تھی، یہ دیکھنے آیا تھا کہ اب احمدیوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ میں تو آپ کے نظام کو درہم برہم ہوتے دیکھنا چاہتا تھا لیکن رات میں نے جو نظارہ دیکھا ہے وہ بڑا حیرت انگیز اور ایمان افروز ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے ، جن کے پاس بدن ڈھانکنے کو کپڑے بھی کافی نہ تھے۔اور افسر کیا اور ماتحت کیا۔سارے کے سارے کنالیاں اور پراتیں لیکر کھڑے ہیں اور نان بائیوں کو بارش سے بچارہے ہیں تا کہ وہ بھیگ نہ جائیں۔یہ کیفیت دیکھ کر میری کا یا ایسی پٹی کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ ضرور بیعت کروں گا۔کیونکہ یہ جھوٹوں کی جماعت نہیں ہو سکتی اور میں نے دل میں کہا ملوں گا اس وقت، جب بیعت کرلوں گا۔چنانچہ میں نے رات بڑی بے چینی میں گزاری ہے اور اب میں آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بیعت کی توفیق عطا فرما دی ہے۔پس اخلاص کے نمونے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی ضائع نہیں جاتے۔ان کے نتیجے میں بڑی تبلیغ ہوتی ہے۔دلائل خواہ لاکھ بھی ہوں، بچے