خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد اول 337 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء اسکی ذمہ داریوں کو ہم کس طرح ادا کریں گے۔بیشمار ایسے کام پڑے ہوئے ہیں جن کا ابھی تک ہم نے آغاز بھی نہیں کیا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کئی سالوں کی مدت درکار ہے۔پھر یہ فکر بھی لاحق ہوئی کہ وہ روپیہ کہاں سے آئیگا جس کی ضرورت ابھی پیش آگئی ہے اور بعض دوست سمجھ رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ آخر میں ادا کر دیں گے۔اسی لیے میں نے ایک گزشته خطبه جمعه ( فرمودہ ۳۰ دسمبر ۱۹۸۲ء۔ناقل ) میں اس چندہ کی ادائیگی کی تحریک بھی کی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے اور اسکی غیر معمولی رحمت اور فضل و کرم ہے کہ جتنی فکر میں پیدا کرتا ہے اتناہی ان فکروں کے دور کرنے کے سامان بھی مہیا فرما تا رہتا ہے اور فکر کے نتیجے میں تکلیف نہیں آتی بلکہ تعلق باللہ بڑھتا ہے۔الہی جماعتوں کے ساتھ یہ ایک ایسا نظام جاری ہے جس پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر فکر اللہ کا احسان بن جاتا ہے۔چنانچہ گزشتہ مرتبہ جب میں نے صد سالہ جوبلی کے چندے کی طرف توجہ دلائی تو ابھی وہ خطبہ تمام دنیا کی جماعتوں میں پوری طرح شائع بھی نہیں ہوا کہ بعض دور دور کی جماعتوں سے بھی مثلاً یو گنڈا اور اسی قسم کے اور کئی ممالک کی جماعتوں سے بڑی کثرت کے ساتھ یہ اطلاعیں آ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے غیر معمولی توجہ شروع کر دی ہے۔نہ صرف 'صد سالہ جو بلی کے چندے کی ادائیگی کی طرف بڑے انہماک کے ساتھ متوجہ ہور ہے ہیں بلکہ تحریک جدید کا چندہ بھی بعض صورتوں میں کئی گنا بڑھا دیا ہے۔پاکستان کی جماعتوں سے بھی جو خبریں موصول ہو رہی ہیں وہ بھی عموماً خوشکن ہیں۔ایک بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے اور تمام کارکن کیٹریوں کی طرح دن رات کام کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ گزشتہ کوتاہی کی پاداش ہو اور تلافی مافات ہو۔اس طرح اللہ تعالیٰ ان خوش کن خبروں کے ذریعے تسلی بھی دیتا ہے۔انفرادی طور پر بھی جو خطوط موصول ہوتے ہیں ان میں بھی بعض ایسی پیاری اور درخشندہ مثالیں سامنے آتی ہیں کہ دل خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے کہ اس نے خود اپنے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کو ایسے عظیم الشان فدائی عطا فرمائے ہیں۔چنانچہ کل رات ہی میں نے لاہور کی ایک احمدی خاتون کا خط پڑھا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں ایک عام غریب سی عورت ہوں۔لیکن بہر حال میں نے اپنے شوق کے مطابق 'صد سالہ جوبلی کا چندہ لکھوا دیا۔بعد میں کچھ ایسے حالات