خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد اول 338 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء پیش آتے رہے کہ میں اپنا چندہ وقت کے مطابق سال بہ سال ادا نہ کر سکی۔یہاں تک وہ ذمہ داری کا ایک پہاڑ بن کر سامنے آکھڑا ہوا۔انہوں نے لکھا کہ جتنا بھی چندہ تھا، مجھے محسوس ہوا کہ یہ بوجھ میری توفیق اور طاقت سے آگے نکل گیا ہے۔جب آپ نے توجہ دلائی تو کئی دن تو میں نے بڑے ہی کرب میں گزارے۔خدا کے حضور روئی ، گریہ وزاری کی کہ تو نے ہی اپنے فضل سے وعدے کی توفیق بخشی تھی ، اب تو ہی اسے پورا کرنے کی بھی توفیق عطا فرما۔اسی دوران میری نظر اپنے زیور پر پڑی تو معاً میرے دل میں خیال آیا کہ جو کچھ میرے بس میں ہے وہ تو پیش کر دوں چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ سارے کا سارا زیور چھوٹا ہو یا بڑا، جماعت کے سامنے رکھ دیتی ہوں تا کہ اپنے خلوص کا یہ ثبوت تو پیش کروں کہ جو میرے بس میں تھا وہ میں نے کر دیا۔صرف یہی نہیں ، بلکہ (وہ لکھتی ہیں کہ ) جب میں نے یہ فیصلہ کیا تو اس زیور سے مجھے ایسی نفرت ہوگئی کہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا، یہ میرے دل پر بوجھ بن گیا ہے۔اس لئے خدا کے واسطے اس زیور کو میرے گھر سے دور کریں اور مجھے بتائیں کہ میں کس کو ادا کروں تا کہ میرے دل پر سے یہ بوجھ اتر جائے۔کیسا عجیب خدا ہے، کتنے احسان کرنے والا خدا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی پیاری جماعت عطا کی ہے کہ قرونِ اولیٰ کے زمانوں کی یاد کو زندہ کر دیا۔جب میں نے یہ خط پڑھا تو میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اے اللہ ! اس عورت کو زیور ایمان سے آراستہ فرما جیسا کہ اس نے خود خواہش ظاہر کی ہے اور سر سے پاؤں تک اس کے ظاہر و باطن کو اپنی رضا کے زیور سے مزین فرما دے۔پھر میں نے سوچا دنیا میں کتنی ہی عورتیں ہوں گی ( کروڑوں ہوں گی ) جن کو اللہ تعالیٰ نے زیور کی زیبائش سے محروم رکھا ہے۔ان کے سر، ان کے ہاتھ ، ان کے گلے اور ان کے پاؤں خالی پڑے ہیں۔لیکن ان میں سے کتنی ہوں گی جنہوں نے رضائے باری تعالیٰ کی خاطر اپنے ہاتھوں کو، اپنے سر کو، اپنے گلے کو اور اپنے پاؤں کو زیور سے عاری کیا ہوگا۔بہت کم ایسی مثالیں نظر آئیں گی۔اور اگر کوئی مثالیں ہوں گی تو وہ ساری کی ساری جماعت احمدیہ میں ملیں گی۔پہلے بھی جماعت احمدیہ کی تاریخ ایسے نظارے پیش کر چکی ہے، آج بھی پیش کر رہی ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ پیش کرتی چلی جائے گی۔اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ جن خواتین کو ایسی عظیم الشان قربانیوں کی توفیق ملی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو کبھی خالی نہیں چھوڑا۔دنیا میں کتنی ہی عورتیں ہیں ( کروڑوں ہوں گی ) جن کو خدا