خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد اول 336 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء اب جبکہ جلسہ قریب آچکا ہے۔یہ مختلف انتظامات قریب پایہ تکمیل کو پہنچ گئے ہیں۔اس کے باوجود، چونکہ مہمانوں کی آمد کا کوئی صحیح اندازہ کرنا ممکن نہیں ہوتا اور بسا اوقات توقع سے بڑھ کر مہمان حاضر ہو جاتے ہیں ، اس لیے ایک فکر بھی لاحق ہوتی ہے۔اور پھر دعا کی طرف زیادہ توجہ مبذول ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس قسم کی مشکلات در پیش ہوں گی۔کس قسم کے وسیع انتظامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔پس جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو، یہ ساری کی ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انتظام کتنے بھی مکمل کیوں نہ ہوں ، اندازے بھی درست ہوں، آنے والوں کے متعلق انسانی پیشگوئیاں بھی صحیح ثابت ہوں اور ان اندازوں سے زیادہ کا اندازہ لگا کر بھی انتظام مکمل کر لیے جائیں ، جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو کوئی انتظام بھی احسن رنگ میں نہیں چل سکتا۔ہم نے لنگر خانوں میں کام کیا ہے۔ہمیں تجربہ ہے کہ بعض دفعہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ سارا انتظام دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور کچھ پیش نہیں چلتی۔کبھی بارش آجاتی ہے۔کچھ اچانک وہ مزدور جن کو ہم کام کیلئے باہر سے بلاتے ہیں آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں اور وہ لڑائی ایسی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ سارا انتظام ایک طرف پڑا رہ جاتا ہے اور جتنی روٹی پکنی چاہئے بعض دفعہ اس سے آدھی بھی نہیں پک سکتی۔تو مستقبل میں سو قسم کے ایسے اندھیرے ہیں جن پر انسان کا کوئی بس نہیں۔اس لیے جوں جوں جلسہ قریب آرہا ہے احباب جماعت کو بڑے اخلاص کے ساتھ اور گریہ وزاری اور عاجزی کے ساتھ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اس جلسے کو کامیاب و کامران فرمائے۔آنے والوں کیلئے بھی مشکلات ہیں۔پھر واپس لوٹنے والوں کے لیے بھی مشکلات ہیں۔دور دور سے ہمارے مہمان یہاں آنے شروع ہو گئے ہیں۔بیرونی ملکوں سے وفود پہنچے رہے ہیں اور ابھی تو وہ سب یا ان کی اکثریت قادیان کے جلسہ میں شمولیت کے لیے گئی ہوئی ہے، لیکن وہ بھی بہت جلد یہاں آنے والے ہیں۔اس لیے بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن کو اہل ربوہ نے بہر حال ادا کرنا ہے۔اور دعا کی مدد کے بغیر احسن رنگ میں ان کو ادا نہیں کیا جاسکتا۔اسی انتظام کے سلسلے میں سوچتے ہوئے مجھے یہ خیال آیا کہ صد سالہ جو بلی کا جلسہ جو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ وسیع ہوگا اور بہت زیادہ وسیع تر انتظام کے تقاضے لے کر آئے گا،