خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 325
خطبات طاہر جلد اول 325 خطبه جمعه ۱۰ر دسمبر ۱۹۸۲ء اب میں چند چھوٹی چھوٹی باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ان کو چھوٹی تو نہیں کہنا چاہئے کیونکہ حقیقت میں وہ بہت بڑی باتیں ہیں لیکن مطلب یہ ہے کہ چند سادہ اور آسان سی باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ویسے وہ اس لحاظ سے تو چھوٹی ہیں کہ ہر انسان ان کو اختیار کر سکتا ہے لیکن اپنے مضمون کے لحاظ سے وہ بہت بڑی باتیں ہیں جبکہ عمل کے لحاظ سے نہایت آسان اور سادہ ہیں۔اور ہر انسان کی دسترس کے اندر ہیں۔گویا وہ کوئی ایسے مشکل کام نہیں جن کے متعلق کوئی یہ کہہ سکے کہ میری طاقت سے بالا ہیں۔اس ضمن میں سب سے پہلے میں جلسہ کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔انسان کی یہ بشری کمزوری ہوتی ہے کہ وہ ان اجتماعات کو جو نہایت اعلیٰ مقاصد کی خاطر منعقد کئے جاتے ہیں رفتہ رفتہ میلوں ٹھیلوں میں بدلنے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے اور یہ ایک ایسا انسانی رجحان ہے جودنیا میں ہر جگہ نظر آتا ہے۔بہت ہی عظیم الشان اجتماعات کی بنیادیں اللہ کے عظیم الشان بندوں نے ڈالیں یعنی انبیاء علیہم السلام نے۔اور الا ماشاء اللہ دنیا کی اکثریت نے ان اجتماعات کو میلوں میں اور لغو کھیلوں میں تبدیل کر دیا اور بجائے اس کے کہ وہ اجتماعات ذکر الہی کے لئے مخصوص ہوتے ، لہو ولعب کے لئے وقف ہو کر رہ گئے۔یہ ایک ایسا طبعی رجحان ہے جو رفتہ رفتہ جڑ پکڑتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ بیماری آگے آنا شروع ہو جاتی ہے۔اس لئے بار بار اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔جس طرح زمیندار جانتا ہے کہ کھیتوں کی طرف اگر وہ توجہ نہ دے تو لازماً ان میں جڑی بوٹیاں اُگ آتی ہیں جن کو تلف کرنے کے لئے بار بار توجہ دینا پڑتی ہے۔اسی طرح قو میں خواہ کتنی ہی زندہ ہوں ان میں زندگی کا ایک دوسرا قانون بھی جاری رہتا ہے یعنی مخالفانہ قو تیں سراٹھاتی ہیں۔آخر وہ بھی تو خدا تعالیٰ کے قانون کے تابع ہی عمل کرتی ہیں۔اس لئے زندہ قوموں کا یہ اولین کام ہے کہ وہ حکمت کے ساتھ اپنا جائزہ لیتی رہیں۔اس قسم کی جڑی بوٹیاں جن کا ہمارے اندر جڑ پکڑنے کا کوئی حق نہیں وہ جہاں اور جب بھی جڑ پکڑنے کی کوشش کریں ان کو تلف کر دیا جائے۔ہمارا جلسہ سالانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بڑی گریہ وزاری کے ساتھ دعاؤں کے نتیجہ میں جاری ہوا تھا اور بہت ہی پاک اور اعلیٰ مقاصد کی خاطر جاری کیا گیا تھا اب اس میں بھی کچھ عرصہ سے اس قسم کے رجحانات کا پتہ چلتا ہے اور کئی قسم کی خرابیاں آہستہ آہستہ ظاہر ہورہی