خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد اول 324 خطبه جمعه ۱۰ رو نمبر ۱۹۸۲ء فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ نے بڑی جلدی ان امور کی طرف توجہ شروع کر دی۔مثلاً چندوں کو صحیح کرنے اور شرح کے مطابق دینے کے لئے کہا گیا تو تمام دنیا سے بکثرت ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ بعض جگہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دگنا تگنا بلکہ چوگنا چندہ بڑھ گیا۔اور لکھنے والوں نے بڑی معذرت اور شرمندگی کے ساتھ لکھا کہ ہمیں پہلے خیال ہی نہیں تھا لیکن اب ہم نے اتنے گنا بڑھا کر چندہ دینا شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مغفرت کے لئے دعا کی درخواستیں بھی کیں۔اب اس جماعت کی تو دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ہر نصیحت جو کی جاتی ہے اس پر عمل کرنے والے اس کثرت کے ساتھ آگے آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے دل بھر جاتا ہے چنانچہ اہل ربوہ کو میں نے ایک یہ نصیحت کی تھی کہ جلسہ سالانہ آ رہا ہے اس کے لئے تیاری کریں، اپنے گھروں کو صاف کریں، اپنی گلیوں کو صاف کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا بھی بہت ہی اچھا اثر ظاہر ہوا ہے۔تمام ربوہ میں خدام کیا اور انصار کیا ، بڑی محنت اور توجہ کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ مہمانوں کو کسی قسم یا کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچے۔پھر گزشتہ سے پیوستہ جمعہ کے خطبہ میں یہ توجہ دلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز میں حاضری کی طرف دوست خصوصی توجہ دیں۔کیونکہ ربوہ کی آبادی کے لحاظ سے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس کثرت کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنے والے نہیں آتے جتنے آنے چاہئیں۔چنانچہ پچھلے جمعہ کی نماز میں بھی میں نے محسوس کیا کہ خدا کے فضل سے اس تحریک کا نمایاں اثر ظاہر ہوا اور آج بھی میری آنکھ دیکھ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کے ساتھ سننے والے کانوں نے اس بات کو سنا اور عمل کرنے والے دلوں نے ان کو عمل کی تحریک کی۔چنانچہ آج مسجد کی رونق خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جمعہ کی نسبت بہت بہتر ہے جس میں میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی۔تو اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی حمد کی جائے کم ہے۔جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ہمارے پاس تو سوائے اخلاص کی دولت کے اور کچھ نہیں۔اور دلوں میں جو اپنے اندر سے ایک قوت پیدا ہوتی ہے اس کے سوا کام چلانے کے لئے اور کوئی قوت نہیں۔اور یہ دونوں چیزیں دعا کی برکت سے بڑھتی اور نشو و نما پاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ سلسلہ عالیہ احمدیہ کو اسی طرح زندہ اور پائندہ رکھے اور دلوں کو خلوص اور اس اندرونی قوت سے بھر دے جس کے نتیجہ میں دین کے کام بحسن و خوبی چلا کرتے ہیں۔