خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 326
خطبات طاہر جلد اول 326 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۸۲ء ہیں۔ان میں سے مثلاً ایک یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہمارے بازار تقویٰ کی صحیح نشاندہی نہیں کرتے بلکہ دنیا کے عام بازاروں کی طرح وہاں نو جوانوں کے گروہ ادھر ادھر آپس میں گئیں مار رہے ہوتے ہیں یا مذاق کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔یوں لگتا ہے گویا وہ ایک سیر گاہ میں اکٹھے ہوئے ہیں اور چند دن گپ شپ کے لئے آئے ہیں۔یہ ٹھیک ہے یہاں باقی شہروں کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑا نمایاں فرق ہے بے حیائی کی باتیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی ایسے موقع پر دوسرے شہروں میں ہوتی ہیں لیکن ہم اس فرق پر راضی نہیں ہیں ہمارا دینی منصب بہت بلند ہے ہمیں کوشش بہر حال یہ کرنی چاہئے کہ یہ اجتماعات جماعت احمدیہ کی حقیقی روح کا مظہر بنیں۔جلسہ کے دوران ہمارے بازار ایک امتیازی شان رکھیں۔لوگ ان کو دیکھ کر یہ محسوس کریں کہ یہ مختلف قسم کے انسانوں کے بازار ہیں ، عام شہروں کے بازار نہیں ہیں۔یہ اجتماع کچھ عجیب سی مخلوق کا اجتماع ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے الگ ہے۔پس جب تک ہر دیکھنے والے کے دل میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہیں۔پھر یہی مجالس گھروں میں بھی لگتی ہیں۔اس سے تو انکار نہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کی غرض و غایت میں ایک غرض یہ بھی بیان فرمائی تھی کہ مختلف ممالک اور مختلف شہروں کے بسنے والے لوگ یہاں اکٹھے ہوں۔ایک دوسرے کے ساتھ ان کے تعلقات استوار ہوں۔آپس میں ان کے روابط قائم ہوں۔محبت اور پیار کے ماحول میں ایک نہایت ہی وسیع سوسائٹی وجود میں آئے جو دنیا کے کونے کونے سے آنے والے لوگوں پر مشتمل ہو اور ایک نہایت ہی پاکیزہ اسلامی معاشرہ جنم لے جس میں باہمی اخوت کی بنیاد اللہ تعالی کی محبت ہوں۔چنانچہ یہ سوشل فوائد جلسہ کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے بہت ہی نیک اثرات بھی ہم دیکھتے ہیں۔اس لئے تعلقات کا قیام۔ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ ملنا۔ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔مہمان نوازی کرنا۔یہ تو قابل اعتراض بات نہیں۔قابل اعتراض بات اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گھروں کی مجالس لغویات کی طرف مائل ہو جائیں یا جب وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی نظموں کی بجائے لغوگانوں کی آوازیں بلند ہونی شروع ہو جائیں۔عام حالات میں بھی یہ اچھا نہیں لگتا لیکن جلسہ کے دنوں میں کانوں میں پڑنے والی یہ آواز میں تو بہت ہی تکلیف دیتی ہیں۔یا مثلاً