خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد اول 305 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء وقت تک کل وصولی صرف تین کروڑ پچپن لاکھ انسٹھ ہزار دو سو چونتیس (۳۵۵٫۵۹,۲۳۴) روپیه ہے۔گویا دس کروڑستتر لاکھ کے وعدوں میں سے سات کروڑ روپیہ بقیہ چند سالوں میں قابل وصول پڑا ہوا ہے۔اس کا مزید تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان کا کل وعدہ پانچ کروڑ بیالیس لاکھ اکانوے ہزار دوسوتر اسی روپے تھا۔اس کے مقابل پر پاکستان کو اب تک وصولی کی شکل میں تین کروڑ پچیس لاکھ چوہتر ہزار سات سو انہتر (۷۴٫۷۶۹ (۳٫۲۵) روپے پیش کر دینا چاہئے تھا، لیکن ادائیگی صرف ایک کروڑ ستاون لاکھ نواسی ہزار نو سو اٹھارہ (۱,۵۷,۸۹,۹۱۸) روپے ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک بھی پاکستان کی جماعتیں اس چندے میں اللہ تعالیٰ کی ایک کروڑ ستاسٹھ لاکھ چوراسی ہزار آٹھ سوا کا ون (۱,۶۷,۸۴۸۵۱) روپے کی مقروض ہو چکی ہیں اور بقیہ وعدہ اگر تدریجا دیں اور جلدی نہ دیں حالانکہ جلدی دینے کی ضرورت ہے، ( ضرورت یہ ہے کہ آخری سال سے دو تین سال پہلے سب روپیہ وصول ہو جائے) تب بھی ایک کروڑ ستاسٹھ لاکھ چوراسی ہزار روپے کا مزید باران کے او پر ایسا پڑا ہوا ہے جو بظاہر پورا ہوتا نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ جماعتیں غیر معمولی قربانی اور فکر اور ہمت سے کام لیں۔تو پاکستان کی جماعتوں کو اب تک جو ادا کرنا چاہئے تھا اس میں سے نصف بھی ادا نہیں ہو سکا یعنی اس کی وصولی صرف ۴۸ فیصدی ہے۔بیرون پاکستان کی یہ شکل بنتی ہے کہ وہاں کی جماعتوں نے پانچ کروڑ چونتیس لاکھ اناسی ہزار نوسو چوالیس (۵,۳۴۲۷۹,۹۴۴) روپے کا وعدہ لکھوایا ، جس میں سے اب تک ان کو تین کروڑ سترہ لاکھ بائیس ہزار چوراسی (۳۱۷,۲۲۰۸۴) روپے ادا کرنا چاہئے تھا مگر ادا ئیگی صرف ایک کروڑ ستانوے لاکھ انہتر ہزار تین سوسولہ (۱,۹۷,۶۹,۳۱۶) روپے ہوئی ہے۔تو بیرونی جماعتیں پاکستان کے مقابل پر تدریجی وصولی میں کچھ آگے ہیں۔یعنی ان کو اب تک جو سو (۱۰۰) دینے تھے ان میں سے باسٹھ (۶۲) روپے دیئے ہیں اور ۳۸ روپے ان پر قرض ہو چکا ہے جبکہ پاکستان کی جماعتوں نے سو(۱۰۰) میں سے صرف ۲۸ روپے دیئے ہیں اور ان پر ۵۲ روپے کا قرض ہو چکا ہے۔اس نسبت سے بیرون پاکستان وصولی کی رفتار قدرے بہتر ہے لیکن اور بہت سے پہلو ایسے ہیں جن کے لحاظ سے بہت سے بیرونی ممالک پاکستان کی جماعتوں کی قربانی کے معیار سے ابھی پیچھے ہیں۔جب یہ صورت حال