خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 304

خطبات طاہر جلد اول 304 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء سارا روپیہ ضائع ہونیوالی بات ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جماعتِ احمدیہ کے مقاصد کی گردن پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔اس منصوبے کے کچھ اور مقاصد تھے جو مختلف وقتوں میں جماعت کے سامنے کھول کر پیش کئے جاتے رہے۔اس غرض سے ایک منصوبہ بندی کمیشن بھی بنایا گیا اور میں بھی اس کا ایک ممبر تھا۔بڑے تفصیلی غور و خوض کے بعد تمام دنیا کے حالات کا جائزہ لیکر اور تمام دنیا سے کوائف اکٹھے کر کے وقتا فوقتا اس منصوبے کی مختلف شکلیں ابھرتی رہیں۔ان دنوں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ سے وقت لے کر کبھی ساری کمیٹی پیش ہوتی رہی اور کبھی سیکر ٹری منصوبہ بندی کمیشن۔اور بعض دفعہ گھنٹوں اکٹھے بیٹھ کر اس کی تفصیلی چھان بین کی جاتی رہی اور بالآخر وہ منصو بہ ایسی شکل میں منظور ہوا کہ اگر چہ اس کے بعض پہلو ابھی بھی قابل غور ہیں، لیکن خدا کے فضل سے اکثر شکلیں اپنی سوچ اور فکر کے لحاظ سے پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہیں۔اس غرض کے لیے جو اخراجات در پیش ہیں وہ اس نوعیت کے نہیں ہیں کہ آخری وعدوں کی آخری وصولی آخری سال یعنی ۱۹۸۹ء میں ہو، تب بھی ہمارا کام چل جائے۔اخراجات میں سے ایک بہت بڑا حصہ اس نوعیت کا ہے کہ صد سالہ جشن سے چند سال پہلے اگر ساری وصولی ہو سکے تو زیادہ عمدگی کے ساتھ کام چل سکتے ہیں اور اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو یہ بھی خطرہ ہے کہ بعض بنیادی اور اہم ضرورت کے کام تشنہ تکمیل رہ جائیں۔لیکن اس وقت وصولی کی جو شکل سامنے آئی ہے وہ انتہائی فکرانگیز ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار چونکہ ایک الگ محکمے سے تعلق رکھتے تھے یعنی اس کیلئے ایک سیکرٹری صد سالہ جو بلی برائے وصولی چندہ الگ مقرر تھا۔اس لیے منصوبہ بندی کمیشن کے سامنے چندہ کی تدریجی وصولی کے اعداد و شمار نہ پیش ہوئے ، نہ ان سے اس کمیشن کا کوئی تعلق تھا، لیکن اب جب میں نے یہ اعداد و شمار نکلوائے تو یہ فکر انگیز صورت سامنے آئی کہ تدریجی وصولی کے لحاظ سے اب تک جتنا وقت گزر چکا ہے اس نسبت سے جو وصولی ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوئی۔یعنی دس کروڑ ستنتر لاکھ اکہتر ہزار دوسوستائیس (۷۱٫۲۲۷ ۷۷ (۱۰) میں سے چھ کروڑ بیالیس لاکھ چھیانوے ہزار آٹھ سو ترپن (۶,۴۲۹۶,۸۵۳) روپیہ اب تک وصول ہو جانا چاہئے تھا۔اس کے مقابل پر اس