خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 306
خطبات طاہر جلد اول 306 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء سامنے آئی تو مزید جائزہ لیا گیا اور پتہ لگا کہ کراچی اور لاہور کی جماعتیں باوجود اس کے کہ باقی چندوں میں وہ بہت مستعد ہیں، اس چندے میں نمایاں طور پر پیچھے رہ گئی ہیں۔اکیلے کراچی کا وعدہ ایک کروڑ پچپن لاکھ پچپن ہزار پانچ سو پچپن (۱۵۵,۵۵,۵۵۵) روپے تھا، جس میں سے دو تہائی ابھی ان کے ذمے قرض پڑا ہوا ہے۔اسی طرح لاہور کا وعدہ تر اسی لاکھ انہتر ہزار ایک سو چھہتر (۸۳۶۹,۱۷۶) روپے تھا اس میں سے بھی بیشتر ان کے ذمہ ابھی قرض پڑا ہوا ہے۔دوسری طرف چندوں کی بہتری کی جو تحریکات چل رہی ہیں اور اس کے لیے ایک روچلی ہوئی ہے اس طرف بھی لازماً جماعت کی توجہ ہے۔پھر تحریک جدید ہے۔وقف جدید ہے۔اسی طرح اور بہت سی تحریکات ہیں۔مثلاً بیوت الحمد کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔یہ سارے بوجھ جماعت نے بہر حال اُٹھانے ہیں۔میں ان کو بوجھ اس لیے کہتا ہوں کہ اردو محاورے میں یہی لفظ سامنے آتا ہے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بوجھ نہیں ہیں۔عربی زبان میں تو دو الگ الگ ایسے لفظ استعمال ہوئے ہیں جن سے فرق ہو جاتا ہے۔ذمہ داریوں کیلئے قرآن کریم حمل کا لفظ استعمال کرتا ہے جیسا کہ فرمایا: رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ (القرو: ۲۸) اور رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا (البقره: ۱۸۷) میں اصر کا لفظ دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم اصر کا لفظ اس بوجھ کے لیے استعمال کرتا ہے جس کو قوموں نے ذمہ داریاں سمجھ کر اٹھایا مگر پھر ان سے بے پرواہی کی۔تب وہ ذمہ داریاں ان کے او پر بیٹھ گئیں اور یہ ان کو بوجھ سمجھ کر اٹھائے پھرتے رہے۔حقیقت میں وہ بوجھ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت اور انعام تھا۔پس جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اصر کا لفظ قرآن کریم میں عموماً اس قسم کے بوجھوں کے لیے استعمال ہوا ہے جہاں شریعت کی ذمہ داری کو عرف عام میں بوجھ اور مصیبت اور بیگار کہا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت علی کی ایک صفت یہ بیان فرمائی يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ (الاعراف:۱۵۸) کہ وہ ان کے اوپر سے بوجھ اتارتا ہے۔اگر اصر سے شریعت کی ذمہ داریاں مراد ہوں تو اس کا مطلب یہ بنے گا کہ آنحضرت علیہ نعوذ باللہ شریعت کی ذمہ داریوں سے آزاد کرانے آئے تھے حالانکہ آپ تو ذمہ داریاں ڈالنے والے تھے نہ کہ اتارنے والے۔پس مراد ی تھی کہ پرانی شریعتوں نے جن چیزوں کو بوجھ سمجھ لیا یا شریعت سے زائد ذمہ داریاں قبول کر لیں جو ج