خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد اول 274 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۸۲ء رفتاری سے قدم اٹھانے کے دعوے ہوں اور گندگیوں کے ڈھیر اور جھگڑوں کی مصیبتوں ( پنجابی میں کہتے ہیں پنڈیں یعنی گھڑیاں مگر پنڈ میں جو لفظ کا مزہ ہے وہ گٹھڑی میں نہیں ہے بوجھ کے ساتھ لفظ پنڈ ہی دماغ میں آتا ہے۔) کا بوجھ ایک گٹھڑی بنا ہوا سر پر لدا ہواور انسان شاہراہ ترقی اسلام پر گامزن ہو یہ نہیں ہوسکتا کبھی گردنوں میں طوق لے کر بھی لوگوں نے دنیا کو مصیبتوں سے آزاد کروایا ہے آپ نے تو دنیا کو آزاد کروانا ہے۔آپ نے قوموں کی رستگاری کا موجب بنتا ہے۔آپ خودان بندھنوں میں گرفتار ہوں تو کس طرح قوموں کو آزاد کروائیں گے اس لئے آپ یہ بھی جان لیں کہ اس کے نتیجہ میں جماعت کو جو نقصان پہنچتا ہے اسکا بوجھ بھی ان لوگوں پر پڑتا ہے یعنی دو طرح کے عذاب ان کے مقدر میں لکھے جاتے ہیں۔ان کے جھگڑوں کے نتیجہ میں اگر ایک جماعت میں مثلاً سو کی جماعت ہے چار بھی جھگڑے والے پیدا ہو جائیں تو ساری جماعت برکتوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ایک اس فریق کی طرف ہو جاتا ہے دوسرا دوسرے فریق کی طرف ہو جاتا ہے۔نیک کاموں سے محروم ، نیک خیالات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ساری عمر اپنے جھگڑوں میں مبتلا ، اپنے تصورات میں مبتلا کہ کس طرح فریق ثانی کو شکست دی جائے، گواہیاں اکٹھی کر رہے ہیں ،سارا روپیہ، سارا وقت برباد کر رہے ہیں۔ان کو خدمت دین کی توفیق کس طرح مل سکتی ہے۔ان باتوں سے دماغ پاک ہو ہلکا پھلکا ہو خدمت دین اور جماعت کی ترقیات کی سکیمیں سوچے تو کوئی لطف بھی ہے۔ہر وقت کا یہ جھگڑا سر پر سوار، مقدمہ بازیاں ،ہمصیبتیں اور پھر فیصلے ہوتے ہیں تو عمل نہیں کرتے کہتے ہیں ایک ثالثی پر ایک اور ثالثی بٹھائی جائے ، اس پر ایک اور بٹھائی جائے۔دس دس فیصلوں کے بعد آخر یہ درخواست کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت کو کہا جائے کہ آپ ہمارا فیصلہ کریں یعنی خلیفہ وقت کا کام ہی اور کوئی نہیں ہے سوائے اسکے کہ آپ کی مصیبتیں بھی وہ اپنے سر سہیڑ لے اور دین کے کاموں میں اپنے دماغ کو صرف کرنے کی بجائے محض آپ کے جھگڑوں کے فیصلے نپٹانے میں غلطاں ہو جائے۔اس کا کام یہ تو ہے کہ آپ کو پاک کرنے کی کوشش کرے، آپ کو ان جھگڑوں سے ، آپ کے ذاتی تقویٰ کے معیار کو بلند کر کے آزاد کرانے کی کوشش کرے مگر یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ایک قاضی بن کر ہر وقت آپ کے جھگڑوں میں مبتلا رہے۔بعض جگہ بے انتہا ضد نظر آتی ہے۔بعض جگہ انا نیت نظر آتی ہے کہ اگر ہم جھک گئے۔ہم