خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد اول 273 خطبه جمعه ۱۲ / نومبر ۱۹۸۲ء چھری لوگوں سے روکنے کی بجائے ناجائز ان کی گردنوں پر چھریاں پھیر رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں سے مغفرت کا سلوک ہو کیسے سکتا ہے؟ یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ تم اپنا حق تو نہ چھوڑو خدا کی خاطر اور لوگوں کے حق غصب کرو بے پرواہی کرتے ہوئے اپنے رب سے اور پھر توقع یہ رکھو کہ جو تم نے خدا کے حق مارے ہوئے ہیں جب خدا کے حضور حاضر ہو گے تو وہ اپنے حق تمہیں چھوڑ دے گا۔یہ نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم کا سارا نظام ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ یہ بات جھوٹی ، یہ تصور جھوٹا ہے۔دنیا میں جو رحم کرتا ہے اس پر رحم کیا جائے گا۔جوخدا کی خاطر مغفرت کرتا ہے اس سے مغفرت کی جائے گی۔جو بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے حقوق ادا فرمائے گا۔اپنی جنت بنانی یا بگاڑنی ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اس نظام کے بعد فضل کا دور شروع ہوتا ہے جو ان عارضی چیزوں کو بے انتہا وسعتیں عطا فرماتا ہے اور دنیا میں بھی لا متناہی کر دیتا ہے مگر اس سے پہلے نہیں پہلے انسان خود اپنے اعمال سے ان جنتوں کا حقدار بنتا ہے پھر اس کو بڑی وسعت کے ساتھ یہ جنتیں عطا ہوتی ہیں۔پس یہ چیزیں جو ہمارے معاشرہ میں جڑ پکڑ رہی ہیں لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس طرف توجہ کریں۔میں خوب کھول کر جماعت کے سامنے بیان کر دیتا ہوں کہ آپ کو نیک کاموں کی توفیق مل ہی نہیں سکتی جب تک ان مصیبتوں سے نجات نہ پائیں۔قرآن کریم نے اس کا یہ نقشہ کھینچا ہے يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِم وہ قوم جس کی گردن میں طوق پڑے ہوئے ہوں وہ ترقی کس طرح کر سکتی ہے، وہ آگے کس طرح بڑھ سکتی ہے۔جن لوگوں نے بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں اور ان کی کمریں دہری ہو رہی ہوں وہ دنیا کو ساتھ لے کر کس طرح چلیں گے۔آنحضرت ﷺ کا وجود ہلکا اور پاک تھا تب آپ نے دوسروں کے بوجھ اٹھائے ہیں، تب آپ ساری دنیا کے بوجھ اٹھانے کے لائق بنے۔جب تک آپ اپنے وجودوں کو پاک اور ہلکا نہیں کرتے آپ کس طرح دنیا کے بوجھ اٹھا سکیں گے۔اس وقت تو کیفیت یہ ہے کہ ہم اپنی جماعت کے بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہیں جب تک ہم یہ جھگڑے پوری طرح نپٹا نہیں لیتے۔بڑے عظیم الشان کام ہمارے سامنے پڑے ہوئے ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ ہم نے سفر کرنے ہیں، آپ نے جھگڑوں کی یہ پنڈیں ، یہ گٹھڑیاں ساتھ لئے تو نہیں پھرنا۔اسلام کی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہورہے ہوں اور تیز