خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد اول 275 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ء نے دوسرے فریق کے سامنے حساب پیش کر دیئے تو گویا ہماری ناک کٹ گئی ہم ذلیل ہو گئے۔تو اس کے لئے دو باتیں میرے سامنے ہیں اول تو تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنے نفس پر غور کریں اور جہاں تک ممکن ہے اپنے موقف کی اصلاح کریں، اپنے مطالبات کو درست کریں اور کوشش کریں کہ مصالحت کے ذریعہ ، افہام و تفہیم کے ذریعہ یہ سارے معاملات طے ہو جا ئیں۔اگر یہ نہیں ہوسکتا اور ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے کی غلطی ہے۔بعض دفعہ دیانتداری سے سمجھ رہا ہوتا ہے تو پھر سب سے آسان طریق یہ ہے کہ Irrevocable ثالثی اختیار کر لے یعنی ناقابل تنسیخ ثالثی مان لے جس کو عدالت بھی تسلیم کرتی ہے اور پھر اس کی تنفیذ کرواتی ہے۔اگر دونوں فریق متقی ہیں اور ان کو خوف ہی کوئی نہیں اور ثالث مل کر بنانا ہے تو پھر بیچاری قضا کو کیوں مصیبت میں ڈالتے ہیں۔عدالتوں میں کیوں ایک دوسرے کا روپیہ اور وقت برباد کرتے ہیں۔ثالث بنا ئیں۔دونوں فریق رضا مند ہو جائیں کسی متقی آدمی پر یا اپنا اپنا ثالث چن لیں اور وہ کوئی تیسرا چن لے۔اگر کوئی فریق اس طریق کو اختیار نہیں کرتا تو اکثر صورتوں میں اس کے اندر کوئی کمزوری ہوتی ہے وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے ثالثی کو مان لیا تو واپسی کی راہ ختم ہو جائے گی اور پھر مجھے لازماً سرتسلیم خم کرنا پڑے گا اور میں جو ٹوٹ مار کرنا چاہتا ہوں اس سے محروم ہو جاؤں گا۔لیکن اگر دلوں میں انصاف اور تقویٰ ہے تو سب سے اچھا طریق یہی ہے۔چنانچہ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا (النساء (۳۶) میں بھی یہی طریق سکھایا گیا ہے۔غرض جھگڑے خواہ جائیدادوں کے ہوں یا خاندانوں کے ہوں بہترین طریق یہ ہے کہ ایک فریق اپنی طرف سے ایک حکم کو چن لے اور دوسرا فریق اپنی طرف سے ایک حکم کو چن لے۔دونوں سر جوڑ کر کوشش کریں اگر وہ سمجھوتہ نہیں کر پاتے تو پھر ایک تیسرے کو چن لیں۔اگر یہ نہیں تو پھر قضا میں آئیں۔بے شک اپنی مصیبت کو بھی لمبا کریں مجبوری ہے ہم ان کو اس سے باز نہیں رکھ سکتے۔قضا میں آئیں لیکن قضا کا کام ہے کہ جلد از جلد ان فیصلوں کو نپٹانے کی کوشش کرے۔جو حقوق ہیں ان سے ان کو کوئی روک نہیں سکتا۔عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے اسلام میں جو حقوق قائم ہیں ، وہ بہر حال دیئے جائیں گے۔لیکن یہ میں بتا دیتا ہوں کہ اگر فیصلوں کے بعد کسی فریق نے خواہ وہ کسی خاندان سے تعلق رکھتا ہو خواہ دنیا کے لحاظ سے کسی مقام کا انسان ہو۔اپنے آپ کو جو مرضی سمجھتا ہو۔اگر اس نے