خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 258
خطبات طاہر جلد اول 258 خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۸۲ء شمولیت ہی نہیں کی۔تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ تحریک جدید نے بیرونی آمد کو بڑھتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ اب تحریک جدید کے چندے کی طرف توجہ کی ضرورت نہیں۔اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔قربانی کرنے والی کسی جماعت کو قربانی کی بعض راہوں سے محروم کر دینا بہت بڑا ظلم ہے۔یعنی اچھے بھلے قربانی کرنے والے، نہایت مخلص لوگ ، دوسرے چندے دے رہے ہیں لیکن ان کو توجہ ہی نہیں دلائی جارہی کہ تم نے تحریک جدید کا چندہ بھی دینا ہے۔ذرا سی توجہ دلائیں تو وہ بڑے جوش کے ساتھ آگے آئیں گے۔دراصل ہوایہ کہ بیرون پاکستان جو اس وقت ہندوستان تھا جتنی جماعتیں تھیں ان میں جہاں تک تبلیغ کا اور تحریک جدید کے مشنز کا تعلق ہے ان کا تعلق صرف چندہ تحریک جدید سے تھا اور جہاں تک حصہ آمد اور چندہ عام کا تعلق ہے وہ صدر انجمن احمدیہ کے نام شمار ہوتا تھا۔مگر کچھ عرصے کے بعد حضرت مصلح موعود کے وقت میں ہی انتظامی تبدیلی کی گئی اور تمام چندہ عام ہو یا چندہ وصیت، وہ تحریک جدید کی طرف منتقل کر دیا گیا۔جب تک یہ نہیں ہوا تھا تحریک جدید کو فکر رہتی تھی کہ ہم نے اپنا خرچ کس طرح پورا کرنا ہے۔اس لئے وہ تحریک جدید کے چندے کی طرف توجہ کرتی تھی جب اچانک ان کو Wind Fall درختوں کا جھاڑ۔وہ پھل جو خود بخود نیچے آ رہتا ہے اس کو Wind Fall کہا جاتا ہے ) مل گئی تو ان کو خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی سہولت حاصل ہوگئی۔بہت سا زائد روپیہ جس کا ان کو گمان بھی نہیں تھا وہ ان کومل گیا اور انہوں نے کہا اب یہ تھوڑا سا تحریک جدید کا چندہ ہے، اس کی کیا ضرورت ہے اس کو بے شک چھوڑ دو۔حالانکہ تحریک جدید کا تھوڑا سا چندہ جوان کو نظر آ رہا ہے اس کی تو کوئی بھی حقیقت نہیں۔وہ بے شمار اخلاص جو ضائع ہو رہا ہے اس کی حقیقت ہے یعنی تھوڑے سے چندے کو دیکھتے رہے اور یہ نہ دیکھا کہ بے شمار اخلاص ہے جماعت کا جس کو یہ ضائع کر رہے ہیں۔ان کو قربانی کے مواقع سے محروم کر رہے ہیں تحریک جدید کا کیا حق تھا کہ جماعتوں کو قربانی کی راہوں سے اپنی غفلت کی وجہ سے محروم کر دیں۔اس لئے میں نے تحریک جدید میں ایک نئی وکالت قائم کی ہے تاکہ وکالت مال کا بوجھ بٹ جائے اور اب وکالت مال ثانی خالصہ بیرونی دنیا میں چندہ تحریک جدید کے لئے وقف ہوگی۔یعنی اس کے آمد وخرچ کا حساب اس کے ساتھ متعلق ہوگا۔اور بہت سے زائد بوجھ ان پر پڑے ہوئے تھے۔