خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 259
خطبات طاہر جلد اول 259 خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۸۲ء اب وہ ہٹا دیئے گئے ہیں۔جہاں تک چندہ عام اور چندہ وصیت کا تعلق ہے آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ باوجود ان کمزوریوں کے جن کا میں نے ذکر کیا ، پاکستان کا چندہ ایک کروڑ چار لاکھ ہے۔اس کے مقابل پر بیرونی دنیا کا دوکروڑ بیس لاکھ ہے یعنی دگنے سے بھی زائد ہے اور یہ سارا بجٹ نہیں ہے۔جہاں تک بیرونی بجٹ کی کل آمد کا تعلق ہے وہ خدا کے فضل سے پانچ کروڑ ہو چکی ہے یعنی ایک لاکھ سے تحریک جدید کا آغاز ہوا تھا جو اب خدا کے فضل سے پانچ کروڑ تک پہنچ چکا ہے لیکن تحریک جدید کے لحاظ سے یعنی چندہ تحریک جدید کے لحاظ سے غفلت کا یہ عالم ہے کہ یہاں یعنی پاکستان میں تو ہیں لاکھ سے زائد ہے (اس وقت تک خدا کے فضل سے توقع ہے بیس لاکھ سے زائد آمد ہو چکی ہوگی۔) اور باہر صرف گیارہ لاکھ کے قریب ہے۔اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے صحیح طور پر اس طرف توجہ نہیں کی۔لیکن امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جب تحریک جدید کا یہ شعبہ، وکالت مال ثانی پوری طرح یہاں کی مشکلات اور ضروریات سے فارغ الذہن ہو کر بیرونی دنیا کی طرف توجہ کرے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ بہت تیزی کے ساتھ وہاں چندے بڑھیں گے۔اول تو مجھے توقع ہے کہ چندہ عام اور چندہ وصیت بھی بہت جلدی کم از کم ڈیڑھ گنا ہو جائے گا۔اور اگر دو گنا بھی ہو جائے تو تعجب کی بات نہیں لیکن تحریک جدید میں تو بہت زیادہ گنجائش ہے۔باہر کا جو گیارہ لاکھ ہے۔اس کو ذراسی توجہ کے ساتھ پچاس ساٹھ لاکھ کیا جاسکتا ہے۔اور ایسا کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ جو اس وقت کا بگڑا ہوا توازن ہے وہ درست اور برقرار ہو جائے گا اور بیرونی دنیا کی تحریک جدید کی قربانی بھی پاکستان کی قربانی کے مطابق ہو جائے گی۔لیکن خود پاکستان میں بھی ابھی بڑی گنجائش موجود ہے۔اس لئے جب ہم ان کو تیز کرینگے تو اپنے آپ کو نہیں بھلا سکتے۔یعنی پاکستان میں بسنے والے احمدی بحیثیت پاکستانی احمدیوں کے اپنے آپ کو نہیں بھلا سکتے۔میرا جائزہ یہ ہے کہ یہاں بھی دفتر سوم میں بڑی بھاری گنجائش موجود ہے۔یہ کام میں لجنہ اماءاللہ کے سپر د کرتا ہوں کیونکہ اس سے پہلے دو دفتروں میں سے ایک دفتر یعنی دفتر اول خدام الاحمدیہ کی خصوصی تحویل میں دے دیا گیا ان معنوں میں کہ وہ چندوں کی طرف خصوصی توجہ کریں۔دفتر دوم انصار اللہ کے سپرد کیا گیا کہ وہ اس طرف توجہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل