خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 257
خطبات طاہر جلد اول 257 خطبه جمعه ۵ رنومبر ۱۹۸۲ء انسان پیدا نہیں ہوا، کہ وہ نیک لوگ جو نیک کام کرتے ہوئے فوت ہو جائیں اور ان کی اولا دان کی نیکیوں کو جاری رکھے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان نیکیوں کا ثواب ان کو پہنچتا رہتا ہے۔اس لحاظ سے میرا مطلب ہے کہ وہ عملاً بھی اس دنیا کی فعال زندگی میں زندہ رکھے جائیں گے۔تیسرے دفتر کو قائم ہوئے آج سترہ سال ہو چکے ہیں اور اس سترہ سال کے عرصے میں اس دفتر میں جتنے شامل ہونے چاہئیں تھے اس سے بہت کم تعداد میں شامل ہوئے ہیں یعنی مشکل سے صرف پانچ ہزار تک پہنچے ہیں۔حالانکہ دفتر اول کے وقت جماعت کی جو تعداد تھی اور بچے پیدا ہونے کی جو رفتار تھی اس کے لحاظ سے دس سال کے اندر پانچ ہزار کی تعداد کو حاصل کرنا کافی نہیں اور جبکہ خدا کے فضل سے جماعت کا عظیم الشان پھیلاؤ ہو چکا ہے اور روزانہ مجھے بچوں کے جس قدر نام رکھنے پڑتے ہیں وہی اتنے ہیں خدا کے فضل کے ساتھ کہ اب تک پانچ ہزار کیا ،اگر دفتر سوم میں شامل ہونے والوں کی تعداد میں چالیس ہزار بھی ہو جاتی تو مجھے تعجب نہ ہوتا۔پس معلوم ہوتا ہے کہ دفتر سوم کی طرف غفلت کی گئی ہے۔ہوسکتا ہے اس میں منتظمین کا بھی کچھ قصور ہو اور ہوسکتا ہے ہمارا بحیثیت جماعت یہ قصور ہو کہ ہم نے آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت نہیں کی۔تربیت کیلئے یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے کہ بچوں سے بہت بچپن ہی سے چندہ لینا شروع کرو۔ان کو ہفتہ وار یاماہانہ کچھ رقم دو اور پھر ان سے کچھ خدا کے نام پر لو اور ان کو بتاؤ کہ ہم یہ کس غرض کیلئے لے رہے ہیں؟ اس لحاظ سے دفتر سوم کیلئے بہت ہی وسیع گنجائش موجود ہے اور اگر چہ یہ گنجائش پاکستان میں بھی ہے لیکن پاکستان سے بہت بڑھ کر غیر ممالک میں ہے۔کیونکہ غیر ممالک کا چندہ عام اور چندہ وصیت اس وقت پاکستان کے چندہ عام اور چندہ وصیت سے دگنے سے بھی زائد ہے۔لیکن ان کا چندہ تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان کے چندہ کا تقریبا نصف ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کم از کم چار گنا گنجائش موجود ہے۔اسی طرح چندہ عام اور چندہ وصیت میں بھی ابھی بہت گنجائش ہے۔اللہ کے فضل سے جماعتیں تیزی کے ساتھ چندہ با شرح دینے کی طرف آ رہی ہیں اور بہت خوشکن رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔لیکن میرا جو ابتدائی جائزہ تھا اس سے یہی معلوم ہوا کہ ابھی بہت بھاری تعداد ایسی موجود تھی جو چندہ ادا ہی نہیں کر رہی تھی یا اگر ادا کرتی بھی تھی تو شرح کے مطابق نہیں دے رہی تھی اور چندہ دہندگان میں سے ایک بھاری تعداد ایسی تھی جس نے سرے سے تحریک جدید میں