خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد اول 256 خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۸۲ء جو اپنے والدین یا بزرگوں کی طرف سے رقمیں ادا کر رہے ہیں اگر وہ بزرگ مر بھی چکے ہیں تو وہ زندہ شمار ہونے چاہئیں جہاں تک تحریک جدید کا تعلق ہے۔اور ان کے نام اس فہرست سے نہیں نکالے جائیں گے۔بچوں کے چندوں میں سے اتنا کم کر کے جو انہوں نے اپنے والدین کے نام پر لکھوایا ہے اس فہرست میں منتقل کیا جائے جو دفتر اول کی فہرست ہے اور پھر صحیح صورت حال پیش کی جائے کہ اب کیا شکل بنتی ہے؟ مجھے امید ہے اور بھاری توقع ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے بچے ان کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ دفتر اول کے چندے کی مقدار کم ہونی شروع ہو جائے۔یہ انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتی رہے گی۔دفتر دوم کا آغاز ۱۹۴۴ء میں ہوا اور اب یہ دفتر ار میں سال کا ہو چکا ہے۔اس نے بھی ایک عرصہ تک بلا شرکت غیر چندے دینے والے وصول کئے یعنی اگر چہ دفتر اول میں داخلے کا رستہ بند ہو چکا تھا لیکن اس دفتر میں داخلہ جاری رہا اور اکیس سال تک یہ بغیر کسی رقابت کے جماعت کے چندہ دہندگان حاصل کرتا رہا۔ان میں سے کچھ جاتے بھی رہے اور خدا کے حضور پیش ہوتے رہے لیکن زیادہ تعداد اندر آنے والوں کی تھی۔یہاں تک کہ ۱۹۶۵ء میں اس دفتر کو بند کر دیا گیا ان معنوں میں کہ اس کے داخلے کے رستے بند ہو گئے (ویسے یہ دفتر جاری ہے ) اور دفتر سوم کا آغاز ہوا۔اس وقت تک اس کے چندہ دہندگان کی جو تعداد تھی وہ تو میرے سامنے نہیں آئی۔لیکن اس عرصے میں جو سترہ سال کا عرصہ ہے لازماً ایک بڑی تعداد فوت ہوگئی ہوگی ،مگر کم ہونے کے باوجود اس وقت ان کی تعداد اٹھارہ ہزار پانچ سویا اٹھارہ ہزار چھ سو کے قریب ہے اور ان کا مجموعی چندہ تیرہ لاکھ سے زائد اور چودہ لاکھ سے کچھ کم ہے یعنی تیرہ اور چودہ لاکھ کے درمیان ہے۔اس دفتر والوں کو بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ جو دوست فوت ہو چکے ہیں، دفتر دوم کی آئندہ نسلیں ان کے نام کو زندہ رکھنے کی خاطر یہ عہد کریں کہ کوئی فوت شدہ اس لسٹ سے غائب نہ ہونے دیا جائے گا اور ان کی قربانیاں جاری رہیں گی تاکہ ہمیشہ ہمیش کیلئے اللہ کے نزدیک وہ فعال شکل میں زندہ نظر آئیں۔یعنی ایک تو زندگی ہے ہی کہ نیک لوگ جو خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں وہ زندہ رہتے ہیں۔لیکن نیک اعمال کی صورت میں اگر ان کی وفات کے بعد ان کی طرف سے قربانیاں جاری رکھی جائیں تو آنحضرت عمل اللہ ہمیں خبر دیتے ہیں ، اور ان سے زیادہ سچی خبر دینے والا کوئی