خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد اول 255 خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۸۲ء تھے۔اور اب جس احمدی نے بھی تحریک جدید میں شامل ہونا تھا اس کے لئے صرف دفتر دوم کا دروازہ کھلا تھا۔چنانچہ عظیم الشان قربانیاں کرنے والا یہ گروہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا اور آج ان میں سے صرف دو ہزار زندہ باقی ہیں جنہوں نے دفتر اول میں حصہ لیا تھا اور ان کے چندے کی مقدار جواس وقت تک بیان کی گئی ہے وہ ایک لاکھ پچیس ہزار ہے ، جو میرے نزدیک غلط ہے۔میں نے از سرنو چھان بین کیلئے کہا ہے۔کیوں غلط ہے؟ میں اس کی وجہ بتاؤں گا۔بہر حال دفتر اول میں حصہ لینے والوں کی تعداد جہاں تک زندہ لوگوں کا تعلق ہے وہ گر کر دو ہزار تک پہنچ گئی ہے۔لیکن تحریک جدید نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو مرنے کے باوجود بھی چندہ ادا کر رہے ہیں کیونکہ ان کی نسلیں ان کی طرف سے دے رہی ہیں ان کولسٹ سے خارج کرنے کا کس کو حق ہے؟ اگر ان کا نام تحریک جدید نے اپنی لسٹ سے نکال دیا ہے تو یہ ان کی غلطی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی مثال لیجئے۔وفات کے وقت آپ کا چندہ بارہ ہزار اور چند سو تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس وقت جماعت میں سب سے زیادہ چندہ آپ کا تھا۔بلکہ جہاں تک میراعلم ہے ( ہوسکتا ہے کبھی استثناء بھی ہو گیا ہو ) اگر سو فیصدی نہیں تو اکثر سالوں میں آپ کا چندہ باقی سب جماعت کے انفرادی چندوں سے ہمیشہ زیادہ رہا۔آپ کے وصال کے بعد آپ کے بچوں نے اپنے پہلے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ مشترکہ جائیداد کے حساب میں سے سب سے پہلے ہم حضرت مصلح موعود کا یہ چندہ دیتے رہیں گے اور اس چندے میں کمی نہیں آئے گی۔اس کے علاوہ بھی بچوں نے اپنے طور پر حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے چندے لکھوائے ہیں جو وہ ادا کرتے ہیں۔پس اس رقم میں اضافہ ہو رہا ہے، کمی نہیں ہوئی۔جس کا چندہ جاری ہے وہ کس طرح مرسکتا ہے؟۔اس لئے دفتر اول کی از سر نو ترتیب کرنی پڑے گی۔میری خواہش یہ ہے کہ یہ دفتر قیامت تک جاری رہے اور جولوگ ایک دفعہ اسلام کی ایک مثالی خدمت کر چکے ہیں ان کا نام قیامت تک نہ مٹنے پائے اور ان کی اولادیں ہمیشہ ان کی طرف سے چندے دیتی رہیں اور ایک بھی دن ایسا نہ آئے جب ہم یہ کہیں کہ اس دفتر کا ایک آدمی فوت ہو چکا ہے۔خدا کے نزدیک بھی وہ زندہ رہیں اور قربانیوں کے لحاظ سے اس دنیا میں بھی ان کی زندگی کی علامتیں ہمیں نظر آتی رہیں۔پس اس نقطہ نگاہ سے تحریک جدید کو دفتر اول کی از سر نو تر تیب قائم کرنی پڑے گی، اس کو پھر منتظم کرنا پڑے گا اور وہ بچے