خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد اول 241 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء شدت سے محسوس کر رہے ہیں اور اس کے احسانات کا تصور دل میں محبت کے طوفان اٹھا رہا ہے اور ہر احمدی کا دل پہلے سے بڑھ کر رحمن و رحیم خدا کی محبت کا جوش محسوس کرتا ہے۔میں نے سوچا کہ حمد کی یہ دو شرطیں تو ہم نے پوری کر دیں۔تیسری شرط کس طرح پوری کریں۔یعنی اعمال میں اس حمد کو کس طرح جاری کریں۔اس سلسلہ میں بہت سے مضامین میرے ذہن میں روشن ہوئے کہ یہ یہ طریق ہیں اس حمد کو جاری کرنے کے۔خدا کے اور گھر بنانا ، ان کی آبادی کے سامان پیدا کرنا۔اس کے لیے جدو جہد کرنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مضامین مجھ پر روشن فرمائے جن کے نتیجہ میں یورپ میں بھی بعض اقدامات کئے گئے اور یہاں آکر بھی ان اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا مضمون بھی سمجھایا جس کا میں اب یہاں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے گھر بنانے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے غریب بندوں کے گھروں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔اس طرح یہ حد کی عملی شکل ہوگی جو ہم اختیار کریں گے اور اپنے اعمال سے گواہی دیں گے کہ ہاں واقعہ ہم اللہ کی اس رضا پر بہت راضی ہیں کہ اس نے ہمیں اپنا گھر بنانے کی توفیق بخشی۔پس ہم اس کے غریب بندوں کے گھروں کی تعمیر کی طرف توجہ کر کے اس کے اس عظیم احسان کا عملی اظہار کریں گے۔اس شکل میں جب میں نے غور کیا تو میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ سب سے پہلے اس مقصد کیلئے میں خود نمونہ کچھ پیش کروں غریبوں کے گھر بنانے کے لئے ایک فنڈ قائم کیا جائے۔ایک کمیٹی ہو جو اس بات پر غور کرتی رہے کہ کن غرباء کو کس حد تک ہم نے امداد دینی ہے۔یہ تو ایک ظاہر بات ہے کہ جماعت احمدیہ پر اتنے مالی بوجھ ہیں اور حمد کے اظہار کے اتنے بکثرت اور مختلف ذرائع ہمارے سامنے کھلے ہیں کہ ہم کسی ایک ذریعہ پر اپنی ساری قو تیں خرچ نہیں کر سکتے۔ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ محدود ہے ہر چند تمنائیں بے قرار ہیں اور بے انتہاء ہیں۔رستے تو بے شمار کھلے ہیں حمد کے عملی شکرانے کے اظہار کے لئے۔لیکن تو فیق سر دست بہت محدود ہے۔اس لئے ہر کام کی طرف حصہ رسدی توجہ ہی کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کے شکرانے کا یہ ایک ایسا عملی پہلو تھا جو آج تک خالی پڑا تھا۔اس کی طرف بھی توجہ ضروری تھی کہ خدا کے گھر بنا ئیں تو خدا کے غریب بندوں کے گھر بھی بنائیں