خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد اول 242 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء تا کہ خالق کے حقوق کے ساتھ ساتھ اسکی مخلوق کے حقوق بھی ادا ہوں۔پاکستان میں آجکل اقتصادی حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ بہت کثرت کے ساتھ ایسے غربا ہیں جن کو سر چھپانے کی جگہ میسر نہیں اور یہ امور عامہ میں پیش ہونے والے جو جھگڑے آئے دن میرے سامنے آتے رہتے ہیں کہ فلاں کرایہ دار گھس گیا اور وہ نکلتا ہی نہیں یا فلاں آدمی کو انجمن نے الگ کر دیا اور اس نے مکان پر قبضہ کر لیا۔یہ سب نا جائز شکلیں ہیں ان کا حق نہیں ہے۔لیکن ان مجبوریوں کی طرف بھی یہ واقعات انگلی اٹھا رہے ہیں جو مجبوریاں بعض غرباء کو در پیش ہیں۔ہم ان کو اخلاق حسنہ کی تعلیم دیں گے۔ہم ان کو نظم و ضبط ضرور سکھائیں گے لیکن ساتھ ہی اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ہمارا فرض ہے کہ ان کے لئے کچھ نہ کچھ کریں۔جتنی توفیق ہے۔تھوڑی سہی تھوڑی کریں لیکن اللہ تعالیٰ کی حمد کا عملی صورت میں ایک یہ اظہار بھی کریں کہ ہم اس کے بندوں کے گھروں کی طرف کچھ تو جہ دے رہے ہیں۔ویسے تو یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں بھی اسکو پورا نہیں کر سکتیں۔مگر مجھے اللہ کے فضل سے توقع ہے کہ چونکہ جماعت احمد یہ اس زمانہ میں وہ واحد جماعت ہو گی جو محض رضاء باری تعالیٰ کی خاطر یہ کام شروع کریگی۔اس لئے اللہ اس میں برکت دیگا اور کروڑوں روپوں کے مقابل پر ہمارے چند روپوں میں زیادہ برکت پڑ جائے گی اور اسکے نتیجہ میں جماعت کے غربا کا ایمان بھی ترقی کرے گا اور اللہ کے فضل بھی ان پر نازل ہوں گے۔یہ کن شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔میں اس سکیم کا آج اعلان کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے تو میں اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ کی ایک حقیر سی رقم اس مد میں پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے دولاکھ روپے اس مد میں پیش کرتا ہوں۔انجمن کی جو بچت ہوتی ہے اس کا اکثر استعمال تعمیرات پر ہوتا ہے تو ان تعمیرات کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں جو رتمہیں عطا فرمائی ہیں اس کے شکرانے کا بھی یہ ایک اظہار ہوگا کہ اس میں سے دو لاکھ روپے غربا کی عمارات کے لئے ان کی مدد کے لئے وقف ہوگا اور انشاء اللہ تعالی سال بہ سال اس کی جو شکلیں بنیں گی وہ ہمارے سامنے آتی چلی جائیں گی۔تحریک جدید اور وقف جدید اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے مالی حالات