خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد اول 240 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء رستے مختلف ہو سکتے ہیں۔بلب یا کسی اور برقی آلہ کی راہ سے ہو کر بھی وہ اپنے دوسرے حصہ تک پہنچ جاتی ہے جو اس کا انجام ہے جہاں جا کر وہ Annihilate ہو جاتی ہے اور براہ راست بھی بغیر مقررہ راستے کے وہ دوسرے کنارے تک پہنچ سکتی ہے۔لیکن اس دوسری صورت میں سوائے بھسم کر دینے والی آگ کے اس کے سفر کا ماحصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔پس اگر وہ بلب یا مشین یا پنکھے یا ریفریجریٹر کے رستے سے ہونے کی بجائے براہ راست وہاں تک پہنچتی ہے تو جل کر بھسم ہو جاتی ہے۔اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں ہوتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے آنا تو میرے پاس ہے۔طوعاً یا کرھا تم نے میرے پاس آہی جانا ہے۔تم تخلیق کی جو بھی شکلیں ہو مادہ ہو یا نباتات ہو یا حیوان ہو یا انسان ہو بالآخر تم نے میرے پاس پہنچنا ہے اور ایسی حالت میں پہنچنا ہے کہ تمہارا اپنا کچھ بھی نہیں رہے گا۔اُس وقت جو کچھ میں تمہیں عطا کروں گا اس کی بناء یہ ہوگی کہ اگر تم رحمانیت کے رستہ سے مجھ تک آؤ گے اور رحیمیت کے رستہ سے مجھ تک آؤ گے تو مجھے انعام دینے والا پاؤ گے۔جو کچھ میں دوں گا پھر وہ میری طرف سے ہوگا تمہاری ذاتی مالکیت تو پھر بھی کچھ نہیں ہوگی۔لیکن ان رستوں کو نظر انداز کرو گے تو تمہارا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔میرے حضور حاضر ہونے سے پہلے پہلے رحمانیت اور رحیمیت کے رستے تمہیں تین طریق پر طے کرنے ہوں گے۔نظریاتی لحاظ سے بھی اختیار کرنے پڑیں گے قلبی لحاظ سے بھی اختیار کرنے پڑیں گے اور عملی لحاظ سے بھی اختیار کرنے پڑیں گے۔پس یہی کچی حمد ہے جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے میری توجہ مسجد بشارت سپین کی طرف منتقل ہو گئی اور میں نے سوچا کہ ساری دنیا میں جماعت احمد یہ اللہ کی حمد کے ترانے گا رہی ہے اور سب دنیا پر یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مسجد بشارت کی تعمیر کی جو تاریخ ساز سعادت ہمیں نصیب ہوئی یہ محض ہمارے رب کی رحمانیت اور رحیمیت کے طفیل ہے۔اسی نے ہمیں اس مہم کا آغاز کرنے کی توفیق بخشی اور اسی نے تکمیل کے مراحل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی یعنی جو کچھ بھی ہم نے کیا محض اس کی رحمانیت اور رحیمیت کے عظیم جلووں کے تابع کیا۔ہمارے دل بھی اس ولولہ کو اور رحمن اور رحیم خدا کے احسانات کو بڑی