خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 19
خطبات طاہر جلد اول 19 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء کی نظر کے سامنے اٹھ رہے ہیں تمہارے آپس کی نظروں کے سامنے نہیں اٹھائے گئے اور ایسی ذات سے تمہاری بے پردگی ہوئی ہے، تمہارے اسرار سے ایسی ذات واقف ہوئی ہے جو رحمن ورحیم ہے۔اس سے زیادہ رحم کرنے والی ذات کا تصور ہی نہیں ہوسکتا اور رحیم ہے، بار بار اپنے رحم اور فضلوں کو لے کر آتی ہے تو ایک دفعہ تم نے غلطی کی پھر بھی بخشش کے امکان موجود ہوں گے پھر غلطی کرو گے پھر بھی رہیں گے، پھر غلطی کرو گے پھر بھی رہیں گے۔اس مضمون کو حضرت محمد مصطفیٰ علیہ نے ایک انتہائی پیارے اور عارفانہ رنگ میں یوں بیان فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کمزوریوں پر نظر رکھتا تو اس کا کسی انسان سے تعلق نہیں ہوسکتا تھا، کلیپ کٹ جاتا، لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندے کی خوبیوں پر نظر رکھتا ہے۔اس لئے کوئی ایک بھی انسان نہیں جس سے خدا تعالیٰ کلیۂ بے تعلق ہو چکا ہو، کیونکہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے بعض خوبیاں بھی عطا فرمائی ہیں، ہر جانور کو بعض خوبیاں عطا فرمائی ہیں۔تو ساری مخلوق کا اپنے رب سے واسطہ رحمن ورحیم کے رستے سے ہے۔یہ اگر رستہ کٹ جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور یہ رستہ حقیقی بجز سے نصیب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس بات کا اقرار کرو پہلے کہ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ صرف وہ ہے۔پھر تم دیکھو گے کہ میں رحمن اور رحیم بن کر تم پر ظاہر ہوں گا۔میں بخشش کا سلوک کروں گا رحمت کا سلوک کروں گا عفو کا سلوک کروں گا اور تمہیں نئے سے نئے مراتب عطا فرما تا رہوں گا۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ رحمن اور رحیم کی ذات تک اس عجز کے رستے سے پہنچ جائیں۔آمین! حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ہی پیاری بات فرمائی کہ : بد تر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں براہین احمدیہ جلد پنجم روحانی خزائن جلد 21 ص 18) خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے احباب کو خصوصی دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: سارے عالم میں جو حالات اس وقت ظاہر ہورہے ہیں۔وہ سخت فکر مند کرنے والے ہیں اور ضرورت ہے اس وقت کہ سب سے زیادہ انسانیت کے لئے دعا کی جائے، انسان کیلئے دعا کی