خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 18
خطبات طاہر جلد اول 18 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء کامیابی کے ساتھ اس امتحان سے گزرگئی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہوئے۔اب آئندہ انشاء اللہ تعالی خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطر ولاحق نہیں ہوگا۔جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔اور کوئی دشمن آنکھ، کوئی دشمن دل ، کوئی دشمن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمد یہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی شان کے ساتھ نشو ونما پاتی رہے گی جس شان کے ساتھ اللہ تعالی نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔تو دعائیں کریں، حمد کے گیت گائیں اور اپنے عہدوں کی پھر تجدید کریں اور بار بار اپنے دلوں کے خیالات کو الٹتے پلٹتے رہیں کہ اگر یہ سلسلہ بند ہو جائے نگرانی کا تو کئی قسم کے کیڑے راہ پا جاتے ہیں، کئی قسم کی خرابیاں بیچ میں داخل ہو جاتی ہیں۔اس لئے کوئی مقام بھی آخری طور پر اطمینان کا مقام نہیں ہے، یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ آخری سانس تک ہم پر راضی ہو، راضی رہے اور جب ہم مریں تو وہ محبت کی نگاہ ہم پر ڈال رہا ہوں، نفرت اور غضب کی نگاہ نہ ڈال رہا ہو۔آمین اس آیت میں اور خوشخبری بھی دی گئی ہے۔اس کی طرف توجہ دلا کر میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ کہ اگر دنیا والے ، عام لوگ تمہارے ہر حال سے واقف ہو جاتے تو تمہیں تو مصیبت میں مبتلا کر دیتے۔تم کسی سے ملتے ہو، دل میں تمہارے تھوڑی سی قبض ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ دل میں تھوڑی سی قبض ہے تو اس نے منہ پر مارنے تھے تمہاری محبت یا وفا کے جذبات کہ میں تو تمہارے دل پر نظر رکھتا ہوں تم غلط آدمی ہو۔کمزوریاں جو کچھ انسان چھپاتا ہے، کچھ اللہ کی ستاری کے تابع خود بخود چھپتی رہتی ہیں ، ان پر ہر انسان کی نظر ہوتی تو ایک وجود بھی قابل محبت نہ رہتا۔ہر انسان ہر دوسرے انسان سے نفرت کرنے لگتا۔الرَّحْمَنِ الرَّحِیم نے ہمیں خبر دی کہ تم فکر نہ کرنا تمہارے سارے پردے اٹھ گئے ہیں۔لیکن خدا