خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 208
خطبات طاہر جلد اول 208 خطبه جمعه ۵ ۱ راکتو بر ۱۹۸۲ء نہیں بدلوں گا ۔ تم میرے فضلوں اور رحمتوں کے وارث بنے رہو گے حق دار بنے رہو گے تو میں فضل بڑھاتا چلا جاؤں گا اور دشمن کے زہر سے تمہیں محفوظ رکھوں گا ۔ لیکن کچھ افعی ایسے بھی رہ جائیں گے جن کا بس نہیں چلے گا۔ وہ ترقیات پر تمہیں گامزن دیکھیں گے تو وہ اپنے اندرگس گھولنے لگیں گے۔ اپنے زہر کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔ یہ ہے حسد کا مضمون جس پر جا کر تان ٹوٹی ہے اس سارے مضمون کی ، اور یہ ایک مستقل بغض ہے جو پیدا ہوتا چلا جائے گا اور تمہاری ہر ترقی کے نتیجہ میں یہ بغض بڑھتا چلا جائے گا خواہ ان کی کچھ پیش جائے یا نہ جائے ۔ ایسے حاسد، ایسے کینہ ور انتظار میں لگے رہتے ہیں ۔ کسی جماعت سے یا کسی فرد سے کبھی غفلت ہو اس وقت ان کا داؤ چلتا ہے اور پھر وہ بڑی قوت کے ساتھ ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو ایک دفعہ بچنے کے بعد ہمیشہ کے لئے غافل نہیں ہو جانا۔ یہ نہ سمجھنا کہ آگے موت کسی پہلو سے بھی تمہارا انتظار نہیں کر رہی ۔ وہ تو تمہاری تاک میں بیٹھی رہے گی اور اس کو انتظار میں جتنی دیر لگے گی اتنا ہی اس کا زہر بڑھتا چلا جائے گا ۔ اس لئے قیامت تک کے لئے ہر دشمنی کے شر سے محفوظ رکھنے کی دعا سکھا دی گئی ۔ کتنا عظیم الشان کلام ہے۔ کوئی ایک پہلو بھی باقی نہیں چھوڑا جو ترقیات کی راہ پر چلنے والی قوموں کی راہ میں پیش آ سکتا ہے جس کا قرآن کریم نے یہاں ذکر نہ فرمایا ہو۔ سب سے پہلی بات جو بیان فرمائی گئی اس کے نتیجہ میں کچھ ذمہ داریاں بھی ہم پر عائد ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَهُ خالق ، اللہ ہے ۔ تم نہیں ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ تمہاری کوششوں کے نتیجہ میں ایک چیز پیدا ہوئی ۔ لیکن یہ جان لو کہ ربِّ الْفَلَقِ صرف خدا ہے اس کے سوا اور کوئی ذات نہیں ۔ اگر تم یہ جان لو کہ خدا ہی ہے جو پیدا کرنے والا ہے تو جھوٹے تکبر اور جھوٹے تفاخر تم میں پیدا ہی نہیں ہو سکتے ۔ انکسار تو پیدا ہو سکتا ہے اس احساس کے بعد کہ ہماری کوششیں نہیں تھیں اللہ کے فضل تھے۔ لیکن وہ کھوکھلی اور ہلکی باتیں جو ان رازوں کو نہ سمجھنے والے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہیں ہر ماحصل کے بعد ، ان کھوکھلی باتوں سے مومن محفوظ رکھا جاتا ہے۔ مجھے اس کا خیال تین دن پہلے اس طرح آیا کہ جب میں سفر یورپ سے واپسی پر یہاں پہنچا