خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 207

خطبات طاہر جلد اول 207 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء چیز ہے جو ہمارے بس میں ہے۔یہ سانپ تھوکتے رہیں گے تمہاری گانٹھوں پر۔اللہ ان کے شر سے تمہیں محفوظ رکھتا چلا جائے گا۔یہ وہ تقدیر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے تم دعائیں کرو۔پھر فرماتا ہے وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اگر کوئی ان تمام احتیاطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے راستہ پر آگے بڑھتا چلا جائے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل اتنے بڑھائے گا اور شر سے اس طرح محفوظ رکھتا چلا جائے گا کہ ہر قدم حصول خیر و برکت کا قدم تو ہوگا۔ٹھوکر اور تنزل کا قدم نہیں ہوگا۔جب تم اس مقام پر پہنچو گے تو ایک اور قسم کا اندھیرا بھی تمہاری راہ میں منتظر ہوگا اور وہ حاسد کا حسد ہے۔نقلتِ فِي الْعُقَدِ کے بعد حاسد کے حسد کا مضمون رکھا گیا۔یہ کیوں ہے؟ بظاہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ حاسد کے حسد کے نتیجہ میں ہی تو وہ پھونکیں ماری جائیں گی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہاں ایک اور مضمون بیان ہو رہا ہے۔مراد یہ ہے کہ دشمنوں پر دو دور آتے ہیں۔ایک نفرت اور حقارت کا وہ دور جب کہ وہ خدا تعالیٰ کے قافلوں کی راہ میں حائل ہونے کی اور ان کے تعلقات میں زہر گھولنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن وہ نا کام کر دیئے جاتے ہیں۔جب وہ قافلہ ان کوششوں کے باوجود آگے بڑھ جاتا ہے اور ترقی کی نئی نئی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے تو اس وقت حاسدوں کے حسد کی نظریں پڑتی ہیں اور وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ایک بے اختیاری کا عالم ہے، غیظ و غضب کا عالم ہے لیکن بس کوئی نہیں ہوتا۔لیکن اس حسد کے نتیجہ میں بھی بعض دفعہ نقصانات پہنچ جاتے ہیں۔کیا بار یک فلسفہ ہے اس حسد کا۔اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔لیکن حسد کے نتیجہ میں انسان تاک میں لگا رہتا ہے۔بعد کے مواقع میں اس کا غصہ بغض میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایسے کینہ میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اس کی فطرت میں گس گھولنے لگ جاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ آپ کے تعلقات میں گس گھولے۔یعنی اندرونی مضمون ہے جس طرح سانپ کو ڈسنے کا موقع نہیں ملتا اور وہ طیش میں بیٹھا ہو کہ میں نے ضرور ڈسنا ہے تو اہل علم جانتے ہیں کہ جتنی دیر اسکے زہر کی تھیلی کو انتظار میں لگتی ہے اتنا ہی زیادہ زہراس میں بھرتا چلا جاتا اور خطرناک ہوتا چلا جاتا ہے۔تم دعائیں کرو گے تو ہم تمہیں محفوظ رکھیں گے۔تمہیں بالکل پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔جو خدا کے فضل ہیں ان فضلوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔صرف تم کر سکتے ہو ( یعنی اپنی بداعمالیوں کے ذریعہ ) اگر تم نہ بدلو گے تو میں بھی