خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد اول 209 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء تو لوگوں نے طبعاً خوشی کا اظہار کیا اللہ تعالیٰ نے ایک خدمت کی توفیق عطا فرمائی تھی۔اس موقع پر بڑی محبت کا اظہار تھا۔دلوں سے بے اختیار خلوص کے سوتے اور جذبات کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔کچھ نعرے بن کر ، کچھ دعائیں بن کر کچھ ویسے ہی چہروں سے ظاہر ہورہے تھے۔پاکستان میں داخل ہونے سے لے کر ربوہ پہنچنے تک یہی منظر دیکھا۔لیکن بعض نعرے ایسے سنے جن سے مجھے بہت تکلیف پہنچی مثلاً یہ کہا گیا ، فاتح سپین، ابھی تو ہم خدمت کے میدان میں پوری طرح داخل ہی نہیں ہوئے۔اتنی جلدی اتنے بڑے بڑے دعوے کر بیٹھنا اور ان دعوؤں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا نہ کرنا، یہ ایک بہت خطرناک فعل ہے۔ہر تخلیق نو کے ساتھ جو شر لگے ہوئے ہیں ان میں ایک یہ شر بھی ہے کہ انسان چھوٹی حالت میں بہت بڑے بڑے دعوے کرنے لگ جائے۔چھوٹی سی بات پر ا چھلنے لگ جائے اور اتنا شور مچائے کہ وہ سمجھے کہ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔اس کے شر بڑے تفصیلی ہیں جن کی طرف ذہن منتقل ہوا تو آج میں نے خطبہ میں ان آیات کو اپنے خطبہ کا موضوع بنایا۔یعنی بظاہر تو میں نے شروع ہی میں گویا ساری باتیں بیان کر دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات لا متناہی مضامین رکھتی ہیں۔اگر شر کے مضامین پر اور ہر پیدائش کے ساتھ تعلق رکھنے والے شر کے مضمون پر بھی آپ غور کرتے چلے جائیں تو زندگی بھر غور کریں صرف یہ مضمون بھی ختم نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اول تو رب الْفَلَقِ کے مظاہرات لا متناہی ہیں۔وہ کس طرح رَبِّ الْفَلَقِ بنتا ہے۔کن کن موقعوں پر وہ کس شان کے ساتھ رَبِّ الْفَلَقِ بن کر ظاہر ہوتا ہے۔یہ اتنا حیرت انگیز اور اتنا تفصیلی مضمون ہے کہ انسان اسی میں ڈوب جائے تو ایک نسل نہیں سینکڑوں نسلیں بھی ڈوبی رہیں تب بھی وہ اس مضمون کی اتھاہ کو نہیں پہنچ سکتیں۔سائنس دان جو اب تک غور کر رہے ہیں خدا کے رَبِّ الْفَلَقِ ہونے پر (اگر چہ باشعور طور پر تو اس طرح غور نہیں کر رہے لیکن حقیقت میں اسی آیت کے غلام بنائے گئے ہیں ) ان کی ساری زندگیاں وقف ہیں یہ ثابت کرنے پر کہ عجیب رَبِّ الْفَلَقِ ہے جس کی تخلیق پر ہم غور کر رہے ہیں۔کس طرح ایک تخلیق نو ہوتی ہے۔اس مضمون پر لکھوکھا صفحات لکھے جاچکے ہیں اور آج تک سائنسدان یہ اقرار کرنے پر مجبور ہیں کہ کسی ایک نوع کی تخلیق کے کسی ایک پہلو پر بھی ہم غالب نہیں آ سکے۔اور اس کو ہم نے اپنی لپیٹ میں نہیں لیا۔چھوٹے سے چھوٹے ذرہ کی تخلیق پر بھی وہ ابھی تک حاوی نہیں ہوئے یعنی انسانی علم اتنا کم