خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد اول 167 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء کرنا چاہتا ہوں۔میری مدد فرما۔میں اپنا آپ تیرے سپرد کرتا ہوں تو تو میری مدد کیوں نہیں کرے گا ؟ اگر آپ اللہ تعالیٰ کے حضور اس درد اور دکھ سے بھرا ہوا دل لئے فریاد کریں گے تو یہ ناممکن ہے کہ وہ اسے قبول نہ فرمائے۔تب آپ اپنے گرد تبدیلیاں محسوس کریں گے۔تب آپ دیکھیں گے کہ اس ملک کی قسمت بتدریج بدل رہی ہے، اور تاریکی سے روشنی پھوٹے گی اور تاریکی ختم ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔پہلے اس پر عمل کرنے کا مخلصانہ ارادہ کریں۔پھر اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان مقصد کے حصول میں آپ کی مددفرمائے گا۔استقلال کے ساتھ۔کسی جذباتی ابال کے نتیجہ میں نہیں۔یہ ایک ایسا کام ہے جس کے لئے غالباً ہمیں نسلاً بعد نسل کام کرنا پڑے اور اس عظیم الشان مقصد کے حاصل کرنے میں توانائیاں صرف کرنی پڑیں۔چنانچہ ہمیں تھکے ہوئے لوگ نہیں چاہئیں۔اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم ہمیں بتاتے ہیں کہ ایسے فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی تعریف کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔یہی حال حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متبعین کا ہے جو اسلام کے مقدس بانی کی بیان فرمودہ عظیم الشان مقصد کو فتح وظفر کے نعرے لگاتے ہوئے حاصل کرتے ہیں۔زندگی میں یہ آپ کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ کی نظروں میں آپ کا یہ مقام ہے۔پس اٹھیں۔آپ کیوں ان کم درجہ ایشیائیوں کی طرف دیکھتے ہیں جو یہاں آکر اپنی اقدار گم کر بیٹھے ہیں احساس کمتری کا شکار ہو کر گمراہ ہو بیٹھے ہیں۔لیکن آپ ان سے مختلف ہیں۔آپ یہ سمجھتے کیوں نہیں؟ مجھے اس بات سے سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔نہ صرف ارد گرد کے لوگوں کی حالت دیکھ کر بلکہ احمدیوں کو عام آدمیوں جیسا دیکھ کر، جبکہ آپ معمولی آدمی نہیں، مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہوں کہ اے خدا میرے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔اگر میں احمدیوں کو بھی تیرے پیغام پر قائم نہیں رکھ سکتا۔اگر میں انہیں ان کا مقام ہی نہیں سمجھا سکتا پھر تو میرے لندن اور گلاسگو اور فرینکفرٹ اور ہمبرگ کی گلیوں میں گھومنے کا مقصد ہی کیا ہے۔پھر تو میں ہزاروں ، لاکھوں عام سیاحوں کی مانند ہی ہوں۔میں تو یہاں اس مقصد سے نہیں آیا۔اور مجھ میں احمدیوں کے دلوں کو گرفت میں لے لینے کی طاقت تو نہیں۔میری مددفرما۔سوجیسا کہ میں منکسر المزاجی سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتا ہوں آپ بھی اسی انکسار سے اپنی