خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد اول 168 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء خاطر اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کریں۔اپنی آئندہ نسلوں کی خاطر، بنی نوع انسان کی خاطر جو مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔تب آپ عظیم نشانات اتر تے دیکھیں گے۔بڑی بڑی تبدیلیاں انشاء اللہ رونما ہوں گی۔اور آپ کے ان مادی جسموں سے آپ کی روحیں بلند ہوں گی اور ان ممالک میں ایک نئی جماعت کا قیام ہوگا۔اور یہ ہے احمدیت کا وہ پیغام جو میں آپ کو دینا چاہتا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ انشاء اللہ ضرور اثر انداز ہوگا۔خطبہ ثانیہ کے درمیان حضور نے فرمایا: جمعہ کے بعد ہم نماز عصر جمع کریں گے۔میں اور میرے ساتھی ہم سفر نماز عصر قصر کریں گے۔یعنی دو رکعات ادا کریں گے۔آپ میں سے جو یہیں رہتے ہیں وہ اپنی نماز سلام پھیرے بغیر مکمل کریں۔مگر وہ اس وقت تک نہ کھڑے ہوں جب تک میں دونوں طرف سلام نہ پھیر لوں۔میں نے بعض دوستوں کو جلدی کرتے دیکھا ہے۔جبکہ انہیں امام کی حرکت سے قبل حرکت کرنے کی اجازت نہیں اس حال میں کہ امام ابھی نماز پڑھ رہا ہو۔جیتک وہ دوسری طرف سلام نہ پھیر لے مقتدیوں کو کھڑے ہونے کا کوئی حق نہیں۔جب امام نماز مکمل کر لے تب وہ آزاد ہیں۔امام کی نماز دوسرے سلام کے بعد ختم ہوتی ہے پہلے کے بعد نہیں۔چنانچہ آپ میرے دوسرے سلام پھیر نے تک انتظار کریں اور پھر کھڑے ہو کر بغیر سلام پھیرے دورکعات ادا کر کے نماز مکمل کریں۔اس کے بعد شیخ مبارک احمد صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ جماعت تجدید بیعت کرنا چاہتی ہے۔تو جماعت سکاٹ لینڈ کے لئے انشاء اللہ تقریب بیعت ہوگی۔اور سکاٹ لینڈ کے امام مکرم بشیر آرچرڈ صاحب اور کچھ اور دوست میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھیں گے اور باقی اپنے سامنے بیٹھے ہوئے دوست پر ہاتھ رکھ لیں۔اس طرح ایک جسمانی رابطہ بن جائے گا۔در اصل جسمانی رابطہ بذات خود کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔روحانی رابطہ کی اصل حقیقت ہے۔کیونکہ یہی وہ بیعت ہے جسکا ذکر قرآن کریم میں حَبْلُ اللہ کے طور پر کیا گیا ہے۔حبلُ اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رہیں۔چنانچہ بیعت کے ذریعہ آپ حبل اللہ کو پکڑتے ہیں، اور یہ روحانی تعلق ہے۔تو پھر جسمانی تعلق کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ کسی وہم کی وجہ سے نہیں۔بلکہ