خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد اول 155 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۸۲ء ہیں۔چنانچہ یہ وہ کیفیت ہے جسے بیماری کہا جاتا ہے۔یہ آپ سے ترقی کرنے اور معمول کی زندگی گزارنے کی خواہش چھین لیتی ہے۔چنانچہ اگر معاشرہ بیمار ہو جائے۔خواہ بیماری کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو اسکی اصلاح ضروری ہے۔کیونکہ بالآخر ایسے بیمار لوگ اپنے مقصد کو اس عمدگی سے حاصل نہیں کر سکتے جسے وہ عام طریق پر حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب پر رحم فرمائے۔آمین۔اللہ تعالیٰ یہاں آنے والوں کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اپنے فرائض ادا کرنے کے لئے طاقت بخشے۔سادہ زندگی گزارنا جو دوسرے لوگوں کو آرام و آسائش کی چیزیں مہیا ہیں ان کی خواہش کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور بہت آسان ہے۔بہت عمدہ اور لمبے عرصہ تک زیادہ خوشی کے حصول کا راستہ لوگوں کے پیسوں سے چیزیں خرید نے اس طرح زندگی سے لطف اندوز ہونے اور بعد میں بدنام ہونے سے یہ امر کہیں بہتر ہے کہ اپنے پیچھے اچھی یادیں چھوڑ کر جائیں تا کہ لوگ آپ کو پیار اور محبت سے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور آپ کا دوبارہ انتظار کریں۔نہ یہ کہ وہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ آپ دوبارہ کبھی نہ آئیں۔نہ یہ کہ وہ یہ دعا کریں کہ اس جیسے شخص سے ان کا دوبارہ کبھی واسطہ نہ پڑے اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وابستہ کوئی نام بدنام ہو جائے تو میرے لئے یہ نا قابل برداشت ہے۔یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے۔آپ اس بارہ میں میری مدد کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ خاندان حضرت اقدس کی مدد کا یہ انداز اختیار کریں کہ نا مناسب رویہ اپنائے بغیر مضبوطی اور نرمی سے اور عمدہ برتاؤ اور نصیحت کے درست الفاظ کے ذریعہ انہیں سمجھا ئیں تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کا صحیح انداز ہو گا نہ کہ اس کے برعکس۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق دے۔اور خدا تعالیٰ آپ سب کو جزا عطا فرمائے۔لندن کے احمدی جو مہمانوں کے لئے قربانی کرتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیروکار ہیں۔احمدیت سے محبت کی وجہ سے ہی آپ ( یعنی لندن کے احمدی) یہ کوشش کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ پر فضل و کرم فرمائے اور جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔السلام علیکم۔