خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 156

خطبات طاہر جلد اول 156 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۸۲ء (خطبہ ثانیہ کے بعد جماعت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ حضور انور نے درخواست قبول فرمائی ہے کہ حضور نماز کے بعد دستی بیعت لیں گے۔آپ نے اس پر فرمایا کہ نماز کے بعد بیعت ہوگی لوگ رش کر کے آگے نہ آئیں بلکہ اسی طرح ایک دوسرے کی کمر پر ہاتھ رکھیں۔) بیعت کی کاروائی شروع ہونے سے پہلے حضور انور نے اردو میں فرمایا: اب بیعت ہوگی پہلے مقامی لوگ امیر صاحب انگلستان، مبلغین جو یہاں ہیں، قریب آجا ئیں اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھیں“۔پھر حضور نے انگریزی میں فرمایا: اگر یہاں ایک دوست Mr Steel نامی موجود ہیں جن سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں انہیں بیعت کے وقت اپنا ہاتھ تھامنے کا موقع دوں گا ، تو وہ سامنے آئیں۔ایک نو جوان مسٹر سٹیل (جو یونیورسٹی کے طالب علم ہیں) نے مجھے کہا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں انہیں بیعت کے دوران اپنا ہاتھ تھا منے کا موقع دوں۔چونکہ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔اگر وہ یہاں ہیں تو براہ مہربانی سامنے آئیں۔ورنہ غالباً میرا خط انہیں وقت پر نہیں مل سکا ہوگا (جہاں بھی آپ ہیں اپنے ہاتھ وہیں ایک دوسرے پر رکھ لیں ) بیعت لینے سے قبل حضور اقدس نے اردو میں فرمایا : بیعت جو ہے یہ بہت مشکل کام ہے۔اس کے تقاضے پورے کرنے بڑا خوف کا مقام ہے۔میری اپنی حالت انتہائی غیر ہو جاتی ہے کیونکہ ہر دفعہ مجھے بھی منصب خلافت کی بیعت کرنی پڑتی ہے۔اور مشکل یہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ، مجبور ہیں ہم، اپنی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے بھی بیعت کرنے پر مجبور ہیں۔تو اس بے بسی کا ایک ہی چارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں کی جائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے بار یک تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اگر ہماری کمزوریاں ہیں تو ان سے بخشش فرمائے ، مغفرت فرمائے، پردہ پوشی فرمائے جو کمزور ہیں انکو بھی کشاں کشاں ساتھ لیے چلیں اور جو صحت مند ہیں اللہ تعالیٰ انکو اور صحت عطا فرمائے۔ان دعاؤں کے ساتھ ہم بیعت کرتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے احباب سے بیعت لی۔بیعت کے بعد حضور نے پرسوز دعا کروائی۔