خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 153

خطبات طاہر جلد اول 153 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۸۲ء کریں۔یہ میں اس لئے کر رہا ہوں کہ مجھے پتہ ہے کہ ماضی میں بعض ایسے واقعات ہوئے جس سے خاندان اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے نام پر دھبہ لگایا گیا۔ان واقعات سے مجھے سخت تکلیف ہوئی کیونکہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر زد پڑی جو نا قابل برداشت ہے۔چنانچہ میں آپ سب کو پابند کرتا ہوں کہ محترم شیخ مبارک احمد صاحب (امام مسجد فضل لندن) کی اجازت کے بغیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے کسی فرد کو قرض نہ دیں۔وہ اگر ضروری سمجھیں تو مجھ سے مشورہ کر لیں ورنہ کسی نا خوشگوار واقعہ کی صورت میں وہ میرے سامنے جوابدہ ہوں گے۔آپ شاید خیال کریں کہ یہ چھوٹا سا معاملہ ہے۔یہ چھوٹا سا مسئلہ نہیں ہے۔یہ بہت بڑا معاملہ ہے اور اس کے اثرات دور رس ہیں۔جب لوگ باتیں کرتے ہیں تو صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر ہی دھبہ نہیں لگتا بلکہ ان باتوں سے ایک مخلص احمدی کے اخلاص کے معیار پر بھی اثر پڑتا ہے۔یہ باتیں پھر باہر پہنچتی ہیں۔عوام الناس میں آزادانہ باتیں کی جاتی ہیں گو کہیں دبے لفظوں میں اور کہیں بآواز بلند مگر مجھے علم ہے کہ باتیں بہر حال ہوتی ہیں اور اس سے پھر جماعت کا معیار گرتا ہے اور اخلاص اور قربانی پر چوٹ پڑتی ہے۔پھر میں اسے چھوٹا سا معاملہ کیسے کہہ سکتا ہوں جبکہ یہ ایک بڑا معاملہ ہے۔اگر شیخ صاحب اس قسم کے معاملات میں مجھ سے مشورہ کر لیا کریں کیونکہ لین دین تو چلتا رہتا ہے۔یہ غیر فطری، غیر اخلاقی یا غیر اسلامی بات نہیں کہ کسی شخص کو عاریتہ رقم قرض لینی پڑ جائے۔صلى الله اور یہ ہو بھی سکتا ہے۔آنحضور عے خود بھی کبھی کبھار قرض لے لیا کرتے تھے۔مگر اسے وقت پر واپس نہ کرنا نہایت بری بات ہے۔خصوصاً اس حال میں کہ آپ اپنے تمام تر معیار زندگی کوتو برقرار رکھیں اور دوسروں کے بارہ میں اپنے فرائض سے غفلت برتیں۔یہ غور طلب امر ہے کہ کوئی آپ کی خاطر کیوں کمائے ؟ کیوں وہ آپ کی خاطر سخت محنت کرتا پھرے؟ یہاں زندگی اتنی آسان نہیں مجھے علم ہے اپنا خون پسینہ بہانا پڑتا ہے۔اور پھر کوئی شخص آئے اور آرام سے کسی چھوٹی یا بڑی رقم کا تقاضا کرے اور پھر اسے لے کر غائب ہو جائے یہ بہت ہی نا پسندیدہ امر ہے۔اسی کو میں غیر انسانی رویہ کہتا ہوں۔چنانچہ یہ نہیں ہونا چاہئے۔اگر اس کے بعد اب کسی سے دھو کہ ہو اور کوئی اپنی جائز آمد سے محروم