خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 173

خطبات ناصر جلد نهم ۱۷۳ خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۸۱ء یہ تو چل رہی ہیں کیونکہ جو اس کا منبع اور سر چشمہ ہے، وہ محدود نہیں کہ معجزات محدود تھے کسی زمانہ میں ظاہر ہوئے پھر ٹھہر جائیں۔قبولیت دعا کی طاقت خدا تعالیٰ میں محدود نہ تھی وہ غیر محدود طاقتوں کا مالک ہے۔یہ سلسلہ جاری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب مذاہب اور ہر فلسفہ کو چیلنج بھی دیا اور ستر اسی سال پہلے جو چیلنج دیئے گئے تھے ایک سفر میں میں نے ان کو دھرایا یہ کہہ کے کہ تم یہ کہ کر بھاگ نہیں سکتے کہ جس نے چیلنج دیا اس کی وفات پر ستر سال کے قریب گزر گئے ہیں اب ہم اگر قبول کریں تو کون ہمارے مقابلہ میں آئے گا۔میں نے انہیں کہا کہ میں ایک عاجز بندہ ہوں لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے اس عظیم غلام محمدؐ کا نائب بنایا ہے اور میں تمہارے سامنے ہوں۔تم چیلنج کو قبول کرو۔میں تمہارے سامنے آیا ہوں اور میں تمہارے ساتھ بات کروں گا۔تم مقابلہ کرو۔انجیل نے کہا تھا کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو بیماروں کو چنگا کر دو گے۔ان پر ہاتھ رکھ کر دعا کے ساتھ۔دعا کے ساتھ یہ مقابلہ کر کے دیکھ لو ہم جس خدا پر ایمان لائے ہیں۔وہ ایک انسان ، عاجز انسان نہیں۔وہ زندہ خدا۔زندہ طاقتوں والا خدا، پیار کرنے والا خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو آج غالب کرنے والا خدا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ علم آپ کی کتابوں میں ہے۔جو آپ کے خلفاء نے لیکچر دیئے یا کتابیں لکھیں یا تفسیر لکھی ان کے اندر موجود ہے اور اتنی مقبول ہے یہ تفسیر عام طور پر آپ کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی۔جماعت احمدیہ کی ایک تفسیر ہے انگریزی کی پانچ جلدوں میں۔امریکن احمدی جسے احمدی ہوئے تین چار سال ہو چکے ہیں اس کے گھر میں پانچوں جلدیں ہیں اور اس نے پانچوں جلدیں پڑھی ہیں اور پانچوں جلدوں پر اسے عبور ہے اور جہاں سمجھ نہیں آتی وہاں ہمارے مبلغ کو کہتا ہے۔یہ مسئلہ مجھے سمجھ نہیں آیا۔یہ مجھے بتاؤ۔عربی بولنے والے ممالک میں کثرت سے احمدی ہیں اور وہ سفر میں مجھے ملتے ہیں یہاں آتے ہیں، بات کرتے ہیں اور ہر عربی بولنے والا احمدی یہ کہتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام