خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 174

خطبات ناصر جلد نهم ۱۷۴ خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۸۱ء کے ذریعہ دنیا کے سامنے جو قرآن کریم کی تفسیر آئی ہے اس کا اس قدر اثر ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہم فوراً احمدیت قبول کر لیتے ہیں۔اتنا اثر ہے اس کے اندر۔وہ کہتے ہیں ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے تمام کتب کا عربی ترجمہ ہمیں کر کے دیں۔اس کے بغیر محرومیت کا دور جو ہے ، وہ لمبا ہورہا ہے۔میں جب ۱۹۳۸ء میں چند ہفتوں کے لئے مصر میں ٹھہرا تھا تو ایک وکیل تھے نوجوان نئے نئے احمدی ہوئے۔وہ مجھے کہنے لگے کہ ہمارے پاس جور یو یو آف ریلیجنز انگریزی میں آتا ہے اس میں جو حضرت مصلح موعودؓ کے تفسیری مضامین چھپتے ہیں بس وہ ہمیں احمدی بنا دیتے ہیں۔تفسیر کبیر کے بعض حصے طبع ہو چکے تھے لیکن وہ ابھی شائع نہیں ہوئے تھے۔ایک حصہ میں حضرت صاحب کی اجازت سے لے گیا تھا اپنے ساتھ آکسفورڈ جو مقطعات قرآن پر تھا۔ایک دوست کو میں نے وہ سنایا تو وہ تو اچھل پڑا اور ہمارے ہوتے ہوئے پہلے خطبہ جمعہ میں لوگوں کو بتایا کہ یہ دیکھیں کیسے عظیم علوم مقطعات کے متعلق ہمیں احمدیت سے حاصل ہوئے ہیں۔افریقہ، مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ کو لیتے ہیں۔مشرقی افریقہ میں احمدیوں کی تعداد زیادہ نہیں۔لیکن اثر اتنا ہے کہ ایک وقت میں ہمارا تر جمہ ضبط کیا گیا تو اتناد باؤ تھا اس کی مقبولیت کا یعنی اس کی مقبولیت کا اتنا دباؤ تھا کہ وہ تلف کرنا چاہتے تھے ، وہ تلف نہیں کر سکے۔کیونکہ لوگ اس قرآن کریم کو جو ہم انہیں ۸۰ شلنگ میں دے رہے تھے ۵۰۰ شلنگ میں لینے کے لئے تیار ہو گئے۔اتنی عظمت ہے خدا تعالیٰ نے جو علوم حضرت مہدی کو سکھائے ہیں ان میں۔اسی طرح مغربی افریقہ میں صرف غانا میں ہی انقلاب عظیم بپا ہورہا ہے۔کیوں ہو رہا ہے بپا ؟ اس تفسیر قرآنی کے ذریعہ سے جو پیار ہے خدا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کے نتیجہ میں اس زمانہ میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے ، مہدی علیہ السلام کو وہ علوم دیئے اور اس کے اندر تاثیر رکھی۔ابھی پچھلے سال کی بات ہے نائیجیریا سے خط ملا حکومت کی طرف سے کہ ہم عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور عیسائی ایک صوبہ میں بت پرستوں کو عیسائی بنارہے ہیں اور ہمارے ملک میں کوئی فرقہ کوئی مذہبی تحریک کوئی علمی سوسائٹی ایسی نہیں ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے۔اگر آپ یہ