خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 172

خطبات ناصر جلد نهم ۱۷۲ خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۸۱ء بڑا علوم کا خزانہ ایک دماغ میں کیسے آگیا جب خدا نے کہا ایسا ہو جائے ، آگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ( کوئی دو ایک تمہیدی فقرے کہہ دوں ) ایک وقت میں علماء نے کہا تھا آپ کسی مدرسے کے پڑھے ہوئے نہیں ہیں آپ کو عربی نہیں آتی۔آپ قرآن کریم کا علم کیسے رکھتے ہیں اور اسلام کے متعلق کیسے بات کر سکتے ہیں۔قرآن کریم کے معانی آپ کیسے سمجھ سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات میں خدا تعالیٰ نے چالیس ہزار عربی کے مصدر سکھا دیئے اور وہ آپ کو یاد کرا دیئے۔یہ نہیں کہ ایک فرشتہ آیا وہ پڑھ گیا بلکہ آپ کو وہ حفظ ہو گئے اور پھر آپ نے ایسی سلیس عربی میں کتب لکھیں کہ دنیا ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اس وقت جو میں بات کہہ رہا ہوں ، وہ یہ نہیں کہ ایک رات میں چالیس ہزار عربی کے مصدر آپ کو سکھا دیئے گئے۔جو بات میں آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ جس خدا نے اس ذیلی بات کے لئے ، عربی کا جاننا ذریعہ ہے مقصود نہیں۔چالیس ہزار مصدر ایک رات میں سکھا دیئے آپ کو اور حفظ کرا دیئے اسی خدا نے ساری دنیا میں اسلام کے مخالف جو علوم تھے ان کو باطل کرنے کے لئے دلائل بھی سکھا دیئے۔تو یہ ایک ظاہری چیز تھی جو دلیل بنی اس باطنی علوم کے خزانہ کی۔اور پھر ایسی برکت رکھی۔ایک تو کھل کے دلیل دے دی۔آپ نے ہر مسئلہ کے حل کے لئے۔دوسرا ایسا بیچ قرآن کریم کی اس تفسیر میں رکھا گیا کہ جب کوئی نیا سوال ، نیا مسئلہ پیدا ہوا، اس کا حل بھی وہاں سے نکل آیا۔میں بہت دفعہ باہر گیا ہوں۔چوٹی کے عیسائیوں سے میری گفتگو ہوئی ہے۔کوئی دلیل نئی سے نئی وہ میرے سامنے نہیں رکھتے تھے کہ اسی وقت خدا تعالیٰ اس کا جواب نہ سکھائے قرآن کریم میں سے۔چونکہ وہ فدائی ، وہ جاں نثار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جسے خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو دنیا میں پھیلانے کے لئے چنا تھا اُس کے اور اس کی جماعت کے ذریعہ سے اسلام کو دلائل کے ساتھ، آسمانی نشانوں کے ساتھ ، دعا کی قبولیت کے ساتھ، معجزہ کے ساتھ غالب کرنا تھا۔یہ ساری جو نہریں ہیں علوم قرآنی کی۔یہ ہر وقت جاری ہیں۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آتا کہ نہر خشک ہو جائے۔