خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 51

خطبات ناصر جلد نهم ۵۱ خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء ہمارے معاشرے میں بدعات پیدا ہو جاتی ہیں اور اس واسطے جب شادی ہو تو لڑ کی والے کھانا نہ کھلا ئیں۔مجھے کسی شخص نے کہا کہ ابھی پیچھے جیسے دو شادیاں ربوہ میں ہوئی ہیں جب لڑکے والوں نے زور دے کر لڑکیوں سے کھانا جو ہے وہ اس کا مطالبہ کیا اور کھانا کھایا ان کے گھر۔تو آج کوئی یہ برائی بیچ میں لاؤ گے کل کو کوئی اور برائی لاؤ گے۔پھر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر وہ لوگ، وہ لوگ جو اپنی بزرگی اور فضیلت تقویٰ پر نہیں رکھیں گے بلکہ اپنی بیٹیوں کی شادی پر دعوتوں کی وسعت اور ان کے کھانے کی اچھائی کے اوپر رکھا کریں گے وہ آپ کے اندر پیدا ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بحیثیت جماعت اس دنیا میں اپنے فضلوں کا اس وقت وارث بنانا ہے۔جب جماعت بحیثیت جماعت اپنی کثرت کے لحاظ سے، اپنی گہرائیوں کے لحاظ سے، اپنے اندر ایک ٹھوس اسلامی زندگی گزارنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے وہ ہوں جو خالص دین اسلام پر چلنے والے ہوں اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے والے ہوں اور انسان انسان میں فرق نہ کرنے والے ہوں۔چاہے وہ انسان ہو جو اپنی بیٹی کی شادی پر ایک جوڑے کے علاوہ اس کے خاوند کو کچھ نہیں دے سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس ایک نہایت بدصورت نوجوان آیا ایک دن اور کہنے لگا یارسول اللہ کیا جنت میں میرے لئے کوئی جگہ نہیں۔آپ نے کہا کیوں کیا ہو گیا تمہیں۔کہنے لگا کہ جس سے بھی میں رشتہ تجویز کرتا ہوں اس کو Proposal ( پروپوزل ) اپنے رشتے کی بھیجتا ہوں وہ انکار کر دیتے ہیں میری شکل دیکھ کے۔تو اگر میں نے جنت میں نہیں جانا۔اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر تقویٰ نہیں ہے میرے اندر تو پھر تو اور بات ہے لیکن اگر تقویٰ ہے تو صرف شکل دیکھ کے انکار کر دینا یہ تو ٹھیک نہیں ہے اسلام کی رو سے۔آپ نے کہا تو نے جنت میں کیوں نہیں جانا۔اگر ایسے اعمال بجالائے جو خدا تعالیٰ قبول کر لے تو جنت میں جائے گا۔ایسی حرکتوں کے نتیجے میں تیرے لئے تو جنت کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور جا۔ایک لڑکی تھی جو سارے مدینہ میں اپنے حسن اور خوبصورتی کی وجہ سے شہر کی سب سے زیادہ حسین لڑکی قابل شادی تھی۔آپ نے کہا اس کے گھر جاؤ اور دروازے پر دستک دو۔اگر اس کا باپ گھر میں ہو اور پوچھے کہ کون ہو تو تم اسے