خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 52
خطبات ناصر جلد نهم ۵۲ خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء سلام کہو اور دروازہ کھولو اور اندر چلے جاؤ اور کہو کہ میں آرہا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کے۔آپ نے میری منگنی ( ہماری آج کل کی زبان میں ہوگی ) تیری بیٹی سے شادی کر دی ہے یعنی منگنی کر دی شادی کی۔وہ تو سیخ پا ہو گیا۔اس نے کہا کہ تو جھوٹ بولتا ہے اور یہ وہ۔اور چل پتہ لیتے ہیں۔اٹھ کر جانے لگا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں پتہ لیتا ہوں۔اس کی وہی بیٹی خوبصورت ترین وہاں اندرسن رہی تھی دوسرے کمرے میں۔اس نے باپ کو بڑا ڈانٹا۔اس نے کہا یہ حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر تمہیں یہ پیغام دے رہا ہے اور تم اس قسم کی باتیں کر رہے ہو۔میں اس سے شادی کروں گی۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کے جنت میں جانے کا بھی انتظام کیا تھا اور لڑکی نے جو نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا تھا کہ سارے انسان برابر ہیں ان میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔نہ ان کی شکلوں کو دیکھ کے فرق کیا جاسکتا ہے نہ ان کے کپڑوں کو دیکھ کے فرق کیا جاسکتا ہے، نہ ان کے کھانوں کو دیکھ کے فرق کیا جاسکتا ہے کہ ایک زمیندار سرخ مرچ کی چٹنی پیس کے روٹی کھا رہا ہے اور دوسرا صبح شام پلاؤ زردہ اور Roast (روسٹ ) مرغ کھا رہا ہے کوئی فرق نہیں ہے۔مختصر یہ کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا آپ نے کہا اب تو شادی کے لئے تیاری کر لے۔آپ نے کہا تیرے پاس کچھ پیسے ہیں اس نے کہاہاں ہیں کچھ پیسے۔آپ نے کہا تو پھر تم اپنی بری بناؤ ( بری جس کو ہم کہتے ہیں ) یعنی اپنی ہونے والی بیوی کے لئے کوئی سامان خرید و۔شام پڑ گئی اس دن تو وقت نہیں تھا کچھ خریدنے کا۔شام کو اعلان ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جارہے ہیں کسی غزوہ پر اور مسلمان جو ہیں وہ اپنے ہتھیار لے کے اور تیار ہو جا ئیں جانے کے لئے۔اگلے دن صبح یہ شخص اپنی شادی کی بری خریدنے کی بجائے جو اس کے پاس پیسے تھے اس نے ایک تلوار خریدی، اس نے ایک نیزہ خریدا اور سامان خریدا غزوہ کے لئے ، جان دینے کے لئے اور اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر مجھے دیکھ لیا تو کہیں واپس نہ کر دیں دو دن آپ کے سامنے ہی نہیں ہوا۔سینکڑوں آدمی روانہ ہو گئے۔تیسرے دن سامنے آیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو تجھے وہاں چھوڑ کے آیا تھا شادی کر۔تو یہاں کہاں آ گیا۔کہنے لگا یا رسول اللہ۔آپ جنگ پر جارہے ہوں اور میں