خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 50

خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء رہا ہے اس کو بھی تو سوچو - سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ١٤) کہا گیا تھا۔تو یہ چیزیں ہمیں بتاتی ہیں نا کہ کس طرح انسان کے ساتھ تعلق فطرتِ اشیائے عالمین جو ہے وہ اس کے اندر رکھ دیا گیا ہے اور ہم جو ہیں۔چھوٹی سی بڑی اہم بنیادی چیز آخر میں میں کہتا ہوں۔ہم احمدی جو ہیں ہم دینِ اسلام کے فدائی ہیں۔ہمارا دین اسلام ہے۔احمدی ایک امتیازی نشان ہے جو ہماری جماعت اور ہمارے فرقہ کو نمایاں کرتا ہے دوسروں سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ احمدی فرقہ کے مسلمان یا احمدی مذہب کے مسلمان۔آپ نے مذہب کا لفظ استعمال کیا ہے اس کی میں وضاحت ابھی کر دیتا ہوں۔مذہب اور چیز ہے اور دین اور چیز ہے۔قرآن کریم نے اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ٢٠) فرمایا ہے۔مذہب خدا کے نزدیک ، اسلام نے نہیں فرما یا کہیں بھی۔مذہب لغوی لحاظ سے اعتقاد کو کہتے ہیں اور لغت میں لکھا ہے کہ فقہ کے لحاظ سے چار مذاہب اسلام ہیں۔اسلام تو ، دین تو ایک ہی ہے نا، تو انہوں نے کہا ہے مذاہب اربعہ اسلام کے۔حنفی، شافعی ، حنبلی اور مالکی۔تو مذہب کہتے ہیں عقیدہ کو ، اعتقاد کو، عقیدہ مختلف جہتوں سے ہوتا ہے۔فقہی لحاظ سے مختلف العقیدہ مسلمان پائے جاتے ہیں۔بعض وہ ہیں جو امام ابو حنیفہ کی فقہ کو مانتے ہیں۔بعض وہ ہیں جو امام ابوحنیفہ کی فقہ کو نہیں مانتے بلکہ امام شافعی کی فقہ کو مانتے ہیں۔بعض وہ ہیں جو امام شافعی کی فقہ کوبھی نہیں مانتے یعنی امام شافعی کے مذہب پر نہیں وہ فقہی مذہب پر بلکہ امام مالک کے مذہب پر ہیں وہ، جہاں تک فقہ کا تعلق ہے۔بعض وہ ہیں جو امام مالک کے مذہب کو بھی نہیں مانتے۔وہ امام احمد بن حنبل کے فقہی مذہب پر ہیں۔تو اس لحاظ سے جو احمدی مذہب کے مسلمان ، احمدی فرقہ کے مسلمان۔احمدی مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ اسلام کو بدعات سے صاف کر کے اسلام پر عمل کرنا۔یہ ہے ہمارا عقیدہ یعنی ہم بدعات کو برداشت نہیں کرتے۔ہمیں اپنے رب سے خلوص کا تعلق چاہیے۔ہمیں خالص دینِ اسلام چاہیے۔یہ جود باؤ شیطانی ہے نا انسانی زندگی کے اوپر وہ زمانہ کے ساتھ بدعات کو بیچ میں لے آتا ہے اور چوکس رہ کے زندگی گزارنی چاہیے۔ایک تکلیف دہ بات آج ہی میں نے سنی کہ منع کیا تھا ہم نے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے