خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 504
خطبات ناصر جلد نهم ۵۰۴ خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء جماعت احمدیہ کے سب زمینداروں کو نقصان نہیں پہنچا اور جہاں تک میرا علم اور مشاہدہ ہے جماعت کے جذبہ کے متعلق اس نقصان کی پرواہ کئے بغیر جماعت بحیثیت جماعت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔لیکن مجھے حکم ہے کہ میں یاد دہانی کراؤں ذکر اور اس یقین کے ساتھ کراؤں کہ جو میرے مخاطب ہیں وہ اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ایمان کے مقام پر کھڑے ہیں اور فَانّ الذكرى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذریت : ۵۶) میری اس یاد دہانی کے نتیجہ میں انہیں فائدہ پہنچے گا اور اگر کہیں سستی ہے تو دور ہو جائے گی۔اگر کہیں پریشانی ہے اس معنی میں کہ مثلاً گندم پوری نہیں ہوئی ایک عام زمیندار ہے دس پندرہ ایکڑ کا مالک، عام حالات میں جماعتِ احمدیہ سے باہر اگر اس کے اوپر ذمہ داری ہوتی تو عذر تھا اس کے پاس مگر میں ایسے زمینداروں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے ایسے حالات میں اپنے چندوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی بھینس کو بیچ دیا اور خدا کے گھر کو پورا کر دیا۔اس واسطے انشاء اللہ تعالیٰ یاد دہانی اپنے فرض کے مطابق کر رہا ہوں۔آپ پر بدظنی نہیں کر رہا اور اس وثوق کے ساتھ کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں آپ کا مقام تنزل کی طرف گرے گا نہیں، بلکہ اور بھی رفعتوں کو حاصل کرنے والا ہوگا۔قرآن کریم نے مالی قربانیوں کے متعلق متعد دجگہ بار بار مختلف زاویوں سے توجہ دلائی ہے اور شوق پیدا کیا ہے اور اس کے نتائج پر روشنی ڈال کے بشارتیں دی ہیں۔آج میں نے جس آیت کا انتخاب کیا ہے وہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۲۴۶ میں فرماتا ہے۔مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۖ وَاللَّهُ ص يَقْبِضُ وَيَبْقَط وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (البقرة : ۲۴۶) اس میں جو مضمون بیان ہوا اس میں سے میں نے چھ باتیں اٹھائی ہیں۔پہلی بات یہ کہی گئی کہ مَنْ ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے جو اللہ کو اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے؟ کیا کوئی ہے؟ یہ اعلان ہے انسانیت کی طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ میں مالی قربانی کا اعلان غالباً تاریخ انبیاء میں پہلی دفعہ کیا۔مَنْ ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے؟ اس