خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 413 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 413

خطبات ناصر جلد نهم ۴۱۳ خطبه جمعه ۱۹ / فروری ۱۹۸۲ء اب حُورٌ مَقْصُورت فِي الْخِيَامِ میں کوئی ضرورت نہیں تھی زوجنا کے دہرانے کی یہ ترتیب وار جو آگے پیچھے آئی ہیں سورتیں ، پہلی دو سورتوں میں اعلان ہو چکا ہے کہ وہ زوج ہے جنتی کی۔اب یہاں یہ کہا کہ جس کو ہم نے زوج کہا خود عین ہی نہیں بلکہ وہ نیچی نگاہوں والی اور پاکباز عورتیں ہیں۔گناہ بخشے جائیں گے تبھی تو وہ جنت میں پہنچیں گی۔چوتھی آیت سورۃ واقعہ میں ہے جو چھپنویں سورۃ ہے۔میں ایک دفعہ یہاں دوہرا دوں سورتوں کے نمبر پہلی سورۃ اس ترتیب میں قرآن کریم کی چوالیسویں، دوسری باونویں، تیسری پچپنویں، چوتھی چھپنویں۔ان چار سورتوں میں حور کا لفظ آیا ہے۔پہلی دوسورتوں میں یہ اعلان کیا کہ وہ جنتی کی زوج ہیں۔پھر اگلی دو ہیں ان میں اس اعلان کی ضرورت نہیں بلکہ اس حور کی جس کو زوج کہا گیا صفات بیان کی گئیں اور سورۃ رحمان میں کہا کہ شرم وحیا والی ہیں۔نیچی نگاہوں والی ہیں۔اس واسطے کھلے باغات نہیں بلکہ ان کے لئے خیموں کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور حفاظت کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔سورۃ واقعہ میں ہے وَحُورٌ عِيْن كَامْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ (الواقعة : ۲۳، ۲۴) کالی پتلیوں والی ، بڑی بڑی آنکھوں والی ، جو محفوظ موتیوں کی طرح ہوں گی۔نیک اور پاکباز ، یہ ان کی صفات ہو گئیں اور بھی کچھ صفات ہیں ان ازواج کی جو میں نے نہیں لیں۔اب اگر کوئی شخص حور کے معنی یہ کر لے کہ وہ زوج نہیں اس دو دفعہ کے اعلان کے بعد کہ زوجتهُمْ بِحُورٍ عِینِ تو وہ درست نہیں ہو گا۔اس واسطے محض قرآن کریم کا ترجمہ غیروں میں، غیر مسلموں میں پہنچانا کافی نہیں جب تک یہ ساری احتیاطیں نہ برتی جائیں کہ کوئی ایسا ترجمہ یا تفسیر نہ ہو دوسری آیات نہ کر رہی ہوں جس کی توثیق بلکہ قرآن کریم خودا پنا مفسر ہے۔قرآن کریم کو نازل کرنے والے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ جتنا مرضی غور کر لو اس کا ئنات میں تمہیں میری صفات کے جلوؤں میں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا۔اس لئے ہم علی الاعلان عیسائی دنیا جو ابھی قرآن کریم کو سمجھ نہیں سکی اور دوسرے غیر مسلموں کے سامنے یہ اعلان کیا کرتے ہیں کہ جس طرح قرآن کریم میں یہ اعلان ہوا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں میں تمہیں کوئی تضاد نہیں نظر آئے گا