خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 414 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 414

خطبات ناصر جلد نهم ۴۱۴ خطبہ جمعہ ۱۹ رفروری ۱۹۸۲ء اس لئے اس بات پر بھی ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ جو خدا کا کلام ہے (اور خدا کے جلوے کبھی کلام کی صورت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں، اس کی ایک صفت کلام کرنے والے کی بھی ہے ) اس کے کلام میں بھی کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا کہ کہیں کچھ لکھا ہو اور کہیں کچھ لکھا ہو۔سارا قرآن کریم شروع سے آخر تک ایک منطقی مجموعہ ہے ہر چیز اپنی جگہ پر ہے۔کوئی چیز بے موقع نہیں ہے۔کوئی چیز بے مقصد نہیں ہے۔کوئی چیز بے فائدہ نہیں ہے۔کوئی چیز بے غرض نہیں ہے۔ہر چیز اپنی جگہ پر ہے اور وہیں ہونی چاہیے اور تضاد نہیں ہے (Ideas) جو ہیں وہ معانی ہیں قرآن کریم کے وہ ایک دوسرے سے دست بگریبان نہیں ہیں۔لڑائی نہیں ان کی ہو رہی بلکہ ایک دوسرے کی تائید کرتے ہوئے ہماری روح اور ہمارے سینے کے اندر وہ اپنی نورانی شعاعوں سے دھنستی چلی جاتی ہیں اور گند ہمارا دور کرتی اور نور ہم میں پیدا کرتی اور حسن کے جلوے ہمیں دکھاتی اور ہمارے اخلاق میں حسن پیدا کرتی چلی جاتی ہیں تا کہ ہم جب قرآن کریم کو ان لوگوں کے سامنے پیش کریں تو ہمارا عملی نمونہ بھی قرآن کریم کی تعلیم کی تائید کر رہا ہو یہ بڑی زبر دست ذمہ داری ہے جماعت احمد یہ اور اس کے افراد پر کہ ایسے افعال نہ کیا کرو۔ایسی حرکتیں نہ کیا کرو، ایسی بداعمالیاں نہ کیا کرو کہ تمہاری وجہ سے ہمارا قرآن بدنام ہو دنیا میں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا کرے اور خدا ہمیں یہ توفیق دے کہ ہمارے دل میں جو یہ خواہش ہے کہ جلد سے جلد نوع انسانی کے ہاتھ میں ہم قرآن کریم مع اس کے معانی کے رکھ سکیں ، ہماری یہ خواہش جلد پوری ہو۔درجہ بدرجہ کام ہوگا اس میں شک نہیں لیکن درجات کے فاصلے زمانی لحاظ سے بعد والے نہ ہوں بلکہ جلد جلد یہ سارے کام ہوتے چلے جائیں اور دنیا کی نسل قرآن کریم کے نور سے محرومی کی حالت میں اس دنیا کو چھوڑنے والی نہ ہو۔ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ہے ورنہ خدا کہے گا کہ تمہیں ہم نے حکم دیا تھا کہ اگر دعوی ہے خدا تعالیٰ کے پیار اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تو جو چیز خدا نے بھیجی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔كَافَةَ لِلنَّاسِ اور رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کی حیثیت سے، کیوں نہیں تم نے وہ نوع انسانی کے ہاتھ میں وہ چیز پہنچائی ؟