خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 381

خطبات ناصر جلد نهم ۳۸۱ خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۲ء بنیاد پر اخلاقی اور روحانی تربیت میں زیادتی کرنے کا ایک منصو بہ بنائیں اور وہ منصوبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کے پڑھنے سمجھنے اور اس کے نتیجہ میں وہ اثر قبول کرنے کا ہو جو ایک متقی دل ان کتب کو پڑھ کے اثر قبول کرتا ہے۔اگر ہر واقف وقف جدید کے ذمے یہ لگایا جائے کہ ہفتے کے سات دنوں میں ہر روز وہ کم از کم پندرہ صفحات کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑھے گا تو اس کے نتیجہ میں ان کا علم بھی بڑھے گا اور ان کی توجہ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف بھی زیادہ ہوگی اور دوسروں کی تربیت کرنے کی قابلیت بھی بڑھ جائے گی اور جیسا بھی وہ لکھنا جانتے ہیں، ہیں صفحے پڑھ کے کم از کم پانچ باتیں وہ اپنی کا پی پر لکھیں کہ ہم نے ان صفحوں میں یہ باتیں خاص طور پر پڑھیں جو ہمارے کام آنے والی ہیں تربیت وغیرہ کے لحاظ سے۔جماعت سے میں یہ کہوں گا کہ اس وقت ستوا سے بھی کم واقفین وقف جدید ہیں۔یہ ہماری ضرورت کا بیسواں حصہ بھی پورا نہیں کرتے۔اس واسطے ایسے نوجوان جو سکول کی قابلیت کے لحاظ سے ان کے قواعد پر پورے اترتے ہوں اور دل میں جذبہ رکھتے ہوں، خدمت دین اور تربیت کی قابلیت بھی رکھتے ہوں یعنی ان کی اپنی بھی تربیت ہو چکی ہو، یہ نہ ہو کہ اپنے گھر میں آنکھیں بند کر کے گالیاں دینے کی عادت لے کر وہ وقف جدید میں آجائیں۔جو ظاہر کی چیزیں ہیں موٹی موٹی ، کم از کم اس لحاظ سے وہ مہذب اور تربیت یافتہ ہونے چاہئیں اور دل کا تقویٰ جسے اللہ بہتر جانتا ہے نہ میں فیصلہ کر سکتا ہوں نہ آپ لیکن روح کا جذ بہ جو ظاہر ہوتا ہے اور جس کا ہم بھی فیصلہ کر سکتے ہیں ، وہ ہونا چاہیے اور اس کے لئے ہر ہفتے میرا یہ پیغام ہر گاؤں میں پہنچایا جائے کہ ہمیں بچے دو، ہمیں بچے دو تاکہ بڑوں کی ہم تربیت کر سکیں۔ہمیں بچے دو تا کہ ہم آئندہ آنے والی نسل کی ابتدائی تربیت کرسکیں۔واقفین وقف جدید کے ذمے، جب میں نے کہا تربیت کا کام ہے تو وہ انتہائی تربیت نہیں تھی۔میری مراد تھی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں جو تربیت ہونی چاہیے، کم سے کم معیار ایک احمدی کا جو ہے اس تک تو پہنچنا چاہیے نا۔گالی نہیں دینی ، ”اوئے“ کر کے نہیں پکارنا ، ” تو نہیں کہنا، اپنے چھوٹے کو بھی۔میں بڑوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں ، اپنے بچوں کو بھی آپ کہیں۔اگر آپ اپنے